حنیف اتمر دنیا کو جھوٹ سپلائی کرتا ہے

آج کی بات

 

کابل کی شکست خوردہ حکومت کے قومی سلامتی کے مشیر ’حنیف اتمر‘ نے مغرب کے سفر کے دوران ایک بار پھر بڑی بے شرمی سے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے افغانستان میں امریکی فوج کی طویل جنگ اور ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ذہن رکھنے والے مجاہدین کے اہل خانہ کو ہراساں کر کے جنگ پر مجبور کرتا ہے۔‘

سابق کمیونسٹ حکومت کے آلہ کار حنیف اتمر اور ان کے ہمنوا روسی جارحیت کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت اور جہاد کے دوران بھی اسی طرح کے مضحکہ خیز شوشے چھوڑتے رہے ہیں۔وہ  دنیا کو جھوٹ سپلائی کرتے تھے کہ مجاہدین افغانستان میں پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے لڑتے ہیں۔ تب بھی حنیف اتمر کی دل چسپی یہ تھی کہ روسی جاحیت کے خلاف مجاہدین مزاحمت نہ کریں، بلکہ کمیونزم کی غلامی کی زنجیروں میں بندھ جائیں۔ وہ جہاد ترک کر دیں۔چوں کہ تب مجاہدین سوویت یونین کی جارحیت کے خلاف برسرپیکار تھے، اس لیے ان کے نزدیک وہ فسادی تھے اور پاکستان کے مفادات کے محافظ گردانے جاتے تھے۔

اب بھی حنیف اتمر اسی کمیونسٹ ذہنیت کے تحت امریکی یلغار کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر کر کے مجاہدین کو خاموش اور چپ رہنے کا درس دے رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امریکی فوج کو افغان عوام کا دوست سمجھا جائے۔ حنیف اتمر اپنے خطے کے دفاع کے لیے لڑنے والے مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ وہ اب بھی ماضی کی طرح الزام لگا رہے ہیں کہ مجاہدین پاکستان کے مفادات کے لیے لڑتے ہیں۔

امریکا اور کٹھ پتلیوں کے خلاف برسرپیکار مجاہدین اور اُن کے ہمدرد عوام کو یقین ہے کہ ان کی قیادت اور رہنما کبھی بھی ذاتی مفادات یا کسی پڑوسی ملک کے مفادات کے لیے خفیہ سودے بازی کرے گی اور نہ ہی جہاد کے عظیم مقصد پر سمجھوتہ کیا جائے گا۔ حنیف اتمر اور ان کے حواری یہ بات سمجھیں کہ امارت اسلامیہ کے قائدین اسلام و ملت کی اعلی اقدار کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں دے رہے ہیں۔وہ  ایک لمحے کے لیے بھی اسلام دشمن قوتوں کی فرمائش پر اپنا سر نہیں جھکانے گے۔

امریکا کے غلاموں کی عجیب منطق ہے۔ ہزاروں امریکی فوجی سیکڑوں فوجی اڈوں کے ساتھ افغانستان میں تعینات ہیں۔ افغانستان کے زمینی اور فضائی اختیارات امریکا کے پاس ہیں۔ قابض امریکی فوجی بھرپور طاقت کے ساتھ نہتے افغان شہریوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ نام نہاد حکومت کے تمام اختیارات کا سرچشمہ بگرام میں امریکی فوجیوں کا سربراہ ہے۔ اس ذلت کے باوجود امریکا کے غلام مجاہدین کو امن مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مجاہدین حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔ حنیف اتمر اور ان کے آقا جن امن مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں، مجاہدین تو دور کی بات، ایک عام افغان شہری بھی ایسے مذاکرات میں شامل نہیں ہو سکتا۔ اُسے نام نہاد امن اور مذاکرات سے کسی خیر اور انصاف کی توقع نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*