تعلیمی اداروں میں چیک پوسٹوں کا قیام

آج کی بات

 

حملہ آوروں اور کابل حکومت نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں متعدد اسکولوں کو بمباری کر کے تباہ کر دیا ہے۔ دشمن نے بہت سے اسکولز میں چیک پوسٹیں بھی قائم کر کے وہاں تعلیم کا سلسلہ روک رکھا ہے۔ جب کہ دوسری طرف تعلیم دشمنی کے الزامات مجاہدین پر عائد کیے جاتے ہیں۔

امارت اسلامیہ نے نہ صرف تعلیم کا راستہ نہیں روکا، بلکہ بہت کوشش کی ہے کہ افغان بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں۔ امارت اسلامیہ کے ماتحت علاقوں میں لاتعداد اسکولز اور کالجز فعال ہیں۔ طلباء پُرامن فضا میں تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ صوبہ ہلمند میں فوج اور پولیس اہل کاروں نے اسکولز میں چیک پوسٹیں قائم کر لی ہیں۔ کابل انتظامیہ کے محکمہ تعلیم کے حکام بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ضلع نادعلی اور ضلع گریشک کے علاوہ صوبائی دارالحکومت لشکرگاہ میں فورسز نے اسکولز پر قبضہ جما رکھا ہے۔ وہاں تعلیمی اداروں کو چیک پوسٹوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ صوبہ ہلمند کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر داؤد شاہ صفاری نے کہا کہ فورسز نے ضلع نادعلی میں کالج پر قبضہ کرکے اس کو فوجی اڈہ بنایا، جب کہ کرسیوں اور کتابوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

کچھ عرصہ قبل انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ افغان فوج تعلیمی اداروں کو مورچوں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ افغان فوج صوبہ بغلان میں 2015 سے ایک اسکول پر قابض ہے۔ اب وہ چیک پوسٹ بنا دیا گیا ہے۔ جب کہ اس اسکول کے اساتذہ اور طالب علم پڑھائی کے لیے بے تاب ہیں۔ انہوں نے کئی بار اس چیک پوسٹ کے کمانڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسکول خالی کر کے انہیں پڑھائی کا موقع دیں۔ تاہم کمانڈر ان کے اصرار کے باوجود بضد ہے اور ایک بار اسی کمانڈر کے حکم پر فورسز نے اساتذہ اور طلبہ پر فائرنگ بھی کر دی تھی۔

مذکورہ ادارے نے رپورٹ میں بتایا کہ 2016 کے ایک سروے میں پتا چلا کہ افغان فوج مجاہدین کے خلاف جنگ کے دوران مسلسل تعلیمی اداروں کو چوکیوں کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس ادارے کی رپورٹ کی اشاعت کے بعد کابل حکومت کے محکمہ تعلیم کے حکام نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب نمایاں طور پر اس میں کم آئی ہے۔ پہلے 250 اسکولز کو چیک پوسٹوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اب یہ تعداد کم ہو کر تیس تک پہنچ گئی ہے۔ کٹھ پتلی فورسز نے افغانستان کے طالب علموں پر تعلیم کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ وہ تعلیمی اداروں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ کابل حکومت کے اس عمل کی مذمت کریں۔ فوری طور اس سلسلے کا سدباب کیا جائے، تاکہ بچے اپنے حقوق حاصل کر سکیں اور تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*