امن ریلی کے پیچھے خفیہ اہداف

آج کی بات

 

امریکی قبضے اور اس کی حمایت یافتہ کابل حکومت کے حق میں پروپیگنڈا کرنے والے دو بڑے میڈیا ذرائع ’آزادی اور بی بی سی ریڈیو‘ نے خبر شائع کی کہ گزشتہ روز صوبہ ہلمند میں شہریوں کے نام پر سول سوسائٹی کے کارکنوں نے ریلی نکالی اور خیمے نصب کیے کہ مجاہدین امن مذاکرات کریں۔ بصورت دیگر ہم خیمے نہیں اٹھائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ 2001 سے افغانستان کی فضا میں B52 طیارے محو پرواز ہیں، جب کہ زمین پر فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کا راج ہے۔ کیا یہ مجاہدین ہی ہیں کہ ہر روز افغان شہریوں پر بم گراتے اور گولہ باری کرتے ہیں؟ دن رات نہتے شہریوں کے گھروں پر مجاہدین ہی چھاپے مارتے ہیں؟ مدر بم بھی مجاہدین نے گرایا۔ افغانستان پر مجاہدین نے حملہ کیا اور اس ملک کو امریکا کے قبضے میں دیا؟ امریکا اور اس کی کٹھ پتلی حکومت کا کوئی قصور نہیں ہے!

یہ بہت واضح ہے کہ امریکی حملہ آوروں نے تقریبا دو دہائیوں سے افغانستان پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اس دوران بھرپور طاقت کا استعمال کیا اور ہر قسم کے تجربے کیے گئے، وہ لیکن افغانستان فتح کرنے میں ناکام رہے۔ آخر کار مایوس ہو گئے۔ خاص طور پر ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کی ناکامی کے بعد اب واضح بوکھلاہٹ دیکھی جا سکتی ہے۔ بعدازاں امریکا نے سال کے شروع میں امن مذاکرات کا ڈرامہ رچایا، تاکہ اپنی شکست کا سدباب کر سکے اور مجاہدین کو امن مذاکرات کے نام پر ہتھیار پھینکنے پر مجبور کیا جائے۔ کبھی افغانستان کی تقسیم کے منصوبے بناتے ہیں۔ کبھی علماء کانفرنس کے نام پر جہاد کے خلاف فتوی جاری کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور کبھی تاجکستان میں نمائشی امن کانفرنس کا انعقاد کر کے امریکی قبضے کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دراصل یہ تمام منصوبے قابض امریکا کی براہ راست ہدایت پر بنائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی منصوبہ افغانستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہلمند میں شہریوں کے نام پر امن ریلی اگر واقعی عوام کی آواز ہے تو مجاہدین ضرور ان کا خیرمقدم کریں گے، تاہم ریلی میں شریک لوگ ضلع موسی قلعہ کے آگے شوراب امریکی فوجی اڈا، شینڈنڈ فوجی اڈا، قندھار ائیرپورٹ یا باگرام کی طرف رخ کریں۔ وہاں پر صرف یہ آواز بلند کریں کہ قابض امریکا ہمارے ملک سے نکل جائے۔ فضائی حملے بند کرے۔ ہماری قوم کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دے۔ ہماری فضا اور زمین پر ہمارا حق ہے۔  قابض قوتوں کو بتایا جائے کہ گزشتہ 17 برس کے دوران تم نے بم، توپ، قتل و غارت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں کیا۔ افغان عوام کو تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ریلی کے شرکاء کو محتاط رہنا چاہیے کہ دشمن انہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ وہ جنگ کے بنیادی مسئلے پر غور کریں کہ وہ کہاں سے پیدا ہوا ہے؟ امن مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ کون ہے؟ اگر وہ اس حقیقت کا ادراک کر لیں تو امن لانے کے لیے آسان راستہ پیدا جا سکتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہلمند میں امن ریلی کے شرکاء کو دشمن اپنے مفاد کے لیے استعمال کر لے، جس طرح آزادی اور بی بی سی ریڈیو ان کے پیغام شائع کر رہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ امارت سلامیہ امن کی خواہاں ہے۔ اس کے نزدیک سب سے زیادہ ضروری معاملہ امن ہے۔ اسی وجہ سے اُس نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مثالی قربانیاں دی ہیں۔ اُس نے اپنی قربانیوں کی بدولت مظلوم مسلمان قوم کی حمایت حاصل کی ہے۔ مجاہدین عوام کے ہر مطالبے پر لبیک کہتے ہیں، مگر دشمن کی سازشوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ دشمن کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ منفی پروپیگنڈے کے ذریعے کامیابی حاصل کر سکے۔ افغانستان کا برحق اور کامیابی کے قریب ہے۔ ہمارے مؤمن مجاہد لوگ بہت جلد دشمن کی شکست اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*