غاصبوں کی تعداد میں اضافہ اور صلح کے نعرے

امریکی وزارت دفاع نے کہا ہےکہ ایک بٹالین (تقریبا دوہزار) تازہ دم فوجیوں کو افغانستان بھیجی ہیں، تاکہ لڑائی میں شرکت کریں۔ تازہ دم امریکی غاصب فوجیں ایسی حالت میں افغان سرزمین پر اتر چکی ہیں، کہ دوسری طرف امریکہ اور اس کے ایماء پر مزدور انتظامیہ  اور ساتھ ہی منسلک ذرائع نے صلح اور امن کے نمائشی نعروں کو پروان چڑھا  رکھے ہیں۔

مگر حیران کن نکتہ یہ ہے کہ صلح کے حالیہ جعلی مہم میں صرف امارت اسلامیہ کے مجاہدین سے صلح کا مطالبہ کیا جارہا ہے  اور کوئی بھی اس مسئلے کو نہیں اچھالتا ،کہ  امریکہ اور کٹھ پتلی انتظامیہ تو بھی جنگ کی ایک جہت ہے  اور صلح کے مسئلے میں مساوی ذمہ داری کا حامل ہے۔ وہ کیوں غاصب فوجوں کی تعداد بڑھانے سے جنگ پر تیل چھڑک رہا ہے؟ اور فوجی دھمکیوں کی ابلاغ، بمباریوں میں زیادتی لانے اور وحشتوں کو پھیلانے سے لڑائی کے شعلے کو  مزید تر گرم رکھتے ہیں۔

اس دوہری سلوک سے افغان عوام اور عالمی برادری  کو بظاہر  معلوم ہوجاتی ہےکہ درحقیقت صلح کے دشمن  وہ جارح اوران کے حواری ہیں، جو ظاہری طور پر  ہر کسی سے  صلح کی زیادہ چیخ و پکار کرتی ہے، مگر عملی  طور پر نام نہاد صلح کے نام سے جاری مہم  کو اپنی جنگی پالیسیوں کو چھپانے کی خاطر استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے  صلح کے متعلق افغان عوام کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ صلح کے تنازعے کی ماہیت اور جنگ کے عوامل کو سمجھ لے۔  ہمارے صلح اور  استحکام کے دشمنوں نے اپنی وسیع پروپیگنڈوں کے ذریعے کوشش شروع کر رکھی ہے کہ صلح کے متعلق افغان عوام کے اذہان کو گمراہ کردیں۔ اگر وہ روزانہ بیرونی افواج کی تعداد بڑھانے، بمباریوں ميں اضافے ،فوجی کاروائیاں انجام دینے اور جنگی پالیسی عملی کرتی رہتی ہے، لیکن دوسری جانب جنگی ذمہ داری سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خاطر صلح کی نمائش بھی انجام دیتا رہتا ہے اور امارت اسلامیہ سے یک جانبہ طور پر سرنڈر یا جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

ملکی سطح پر صلح کے وہ حقیقی افراد جو غیرجانبدارانہ طور پر جنگ کو ختم کرنے کی جدوجہد کرتی ہے،ان سے ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ انہیں جنگ طلب غاصبوں کی جعلی جدوجہد کا قربانی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ خودمختار طور پر حقائق کی روشنی میں صلح کی صدا کو بلند کریں۔

باالعموم افغان عوام  اور باالخصوص صلح کے حقیقی شیدائیوں کی ذمہ داری ہے کہ امریکی غاصبوں کی حالیہ جنگ طلب حرکات مثلا  فوجوں کی تعداد میں اضافہ، فوجی حملے، رات کے چھاپے اور بمباریوں میں شدت، طاقت کے ذریعے مسئلے کے حل پر اصرار وغیرہ صلح کش اقدامات کو  نہ صرف محکوم کریں، بلکہ استعمار کے خلاف اعتراض کی صدا بلند کریں اور لڑائی کو طول دینے والے اقدامات کا روک تھام کریں۔

یہ کہ امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں کہا کہ فوجیوں کی تعداد بڑھانے سے طالبان کو شکست دی جائيگی،  ہمیں سابقہ تجربات سے سیکھ لیا اور ہمیں یقین ہے کہ استعمار کا یہ اقدام صرف اور صرف ان کی ہلاکتوں میں اضافہ کریگی، کیونکہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ 2010ء میں اوباما کی پالیسی کی رو سے افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد ہر وقت سے زیادہ تھی، اسی وجہ سے وہی سال امریکی افواج کی زیادہ ہلاکتوں کا گواہ تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*