بدخشان میں چینی شہری مارے جانے کے دعوے کے متعلق ترجمان کا بیان

گذشتہ دو روز سے کابل انتظامیہ کے حکام ذرائع ابلاغ میں پروپیگنڈہ پھیلا رہا ہے کہ گویا صوبہ بدخشان ضلع جرم میں آپریشن کے دوران مملکت چین کے شہری مارے جاچکے ہیں۔ امارت اسلامیہ غلام دشمن کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کی پرزور الفاظ میں تردید کرتی ہے۔

دو روز قبل کابل انتظامیہ کی فوجیوں نے علاقے میں امارت اسلامیہ کی فرنٹ لانئوں پر آپریشن کرنے کی کوشش کی، جو شکست سے روبرو ہوئی اور فرار کی حالت میں فرغامیر کے علاقے کو توپ خانے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد مکانات مہندم ہونے کے علاوہ 28 کے لگ بھگ بچے، خواتین اور مرد شہید و زخمی ہوئے۔

دشمن نے آپریشن کی ناکامی اور وحشت کے بعد میڈیا میں افواہ  پھیلا دی ہے کہ گویا کاروائی کے دوران مملکت چین کے شہری مارے جاچکے ہیں۔ ایسی حالت میں کہ وہاں ایک شخص بھی غیرملکی موجود ہے اور نہ ہی ملا مصطفی کے نام سے کسی شخص کو اہلیاں علاقہ جانتے ہیں ۔ممکن دشمن کا مقصد یہ ہوگا کہ افغانستان کے ہمسائیہ ممالک کو تشویش میں مبتلا کریں، تاکہ امارت اسلامیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائیں۔

بدقسمتی سے اس پروپیگنڈے کو پھیلانے میں چند استعمار حامی ذرائع نے بھرپورحصہ لیا اور اس موضوع میں امارت اسلامیہ کا ردعمل  اور وضاحت معلوم کرنے کے برعکس یکجانبہ طور پر دشمن کے پروپیگنڈے کو ہوا دی۔

ہم دشمن اور اس کے حواریوں   کو یاد دلاتے ہیں،کہ امارت اسلامیہ نے اپنے مؤقف کو براہ راست عالمی برادری سے شیئر کردیا ہے اور وہ ممالک جو ہمارے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہے، انہیں امارت اسلامیہ کے سالم اور امن پسند مؤقف پر یقین ہے۔

مجاہدین کی صفوف میں غیرملکی شہری موجود ہے اور  نہ ہی امارت اسلامیہ کسی کو  اجازت دیتی ہے کہ ہماری سرزمین سے دیگر ممالک اور اقوام کو ضرر پہنچا دیں۔

ہمارے ہمسائیہ ممالک کو مزید متوجہ ہونے چاہیے کہ امریکی استعمار اور اس کے داخلی غلام بےبنیاد رپورٹیں شائع کرنے سے  امارت اسلامیہ کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا چاہتا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

16/ رجب المرجب 1439 ھ بمطابق 02/ اپریل 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*