لوگر اور بدخشان میں شہری نقصانات

آج کی بات

 

امریکا اور کٹھ پتلی حکومت نے افغان قوم کے ساتھ دشمنی کے ثبوت کے طور پر بدخشان اور لوگر میں درجنوں شہریوں کے مکانات تباہ کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دو روز قبل ٹرمپ کے حلقہ بگوش غلاموں اور کٹھ پتلی فورسز نے شمال مشرقی صوبہ بدخشان کے ضلع جرم کے مضافات میں مجاہدین کے خلاف بڑی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کوشش کی کہ وہ مذکورہ ضلع میں مجاہدین کے مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کر کے علاقے پر قبضہ کر لیں۔ تاہم اللہ کے فضل و کرم سے دشمن کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔ مجاہدین نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے اپنے ٹھکانوں اور علاقے کا دفاع کیا۔ مجاہدین نے خصوصی حکمت عملی کے تحت دشمن کو پیش قدمی اور علاقے پر قبضہ نہ کرنے دیا۔

جب بزدل اور شکست خوردہ دشمن کو ضلع جرم میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے راہ فرار اختیار کرتے وقت توپوں اور ہیلی کاپٹروں کا رخ شہریوں کی طرف کر دیا۔ اُس نے راغک اور فرغامیز دیہاتوں پر شدید گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں 30 گھروں کو نقصان پہنچا۔ جب کہ 28 نہتے شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز کابل سے سیکڑوں امریکی اور کٹھ پتلی فوجیوں نے صوبہ لوگر کے ضلع چرخ میں موسم بہار کے آپریشن سے قبل مجاہدین کے مضبوط ٹھکانوں کو تباہ کرنے اور ان کے ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کی غرض سے کارروائی کا آغاز کیا۔ تاہم اللہ فضل سے مجاہدین نے دشمن کو ہر گاؤں اور ہر درّے میں منہ توڑ جواب دیا۔ مجاہدین کی مزاحمت کے نتیجے میں بزدل دشمن کو کانوائے اور ٹینکوں سے اترنے کا موقع بھی نہیں ملا۔

بزدل دشمن کو صوبہ بدخشان کے ضلع جرم کی طرح صوبہ لوگر کے ضلع چرخ میں بھی مکمل شکست اور مایوسی کا سامنا ہوا تو اِس کا بدلہ عوام سے لینا شروع کر دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق پانچ ہیلی کاپٹروں نے گرماوی اور شیخان کے علاقے میں مشہور جہادی اور علمی شخصیت ’چرخ مولوی صاحب‘ کے گھر سمیت متعدد گھروں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر قیمتی سامان لوٹ لیا۔

یوناما اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے، اگر وہ واقعی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شہریوں کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں تو 48 گھنٹوں کے دوران صوبہ بدخشان اور صوبہ لوگر میں قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے سانحے پر خاموش کیوں ہیں۔ وہ ان واقعات کی تحقیقات کریں اور شہریوں کے قاتلوں کو سخت سزا دی جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*