قاتل دشمن انتقام سے نہیں بچ سکتا

آج کی بات

 

صوبہ قندوز کے ضلع دشت آرچی کے علاقے نہرکنہ کے گاؤں لغمان میں مدرسہ دارالعلوم ہاشمیہ میں نئے فضلاء اور حفاظ کرام کی دستاربندی کی مناسبت سے سالانہ جلسہ جاری تھا، جس میں تقریبا چار ہزار سے زائد لوگ شریک تھے۔ جلسے میں قریب اور دوردراز سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ جن میں نئے فضلاء اور حفاظ کرام کے اہل خانہ اور رشتہ دار بھی شامل تھے۔ جب کہ قریبی دیہات سے بڑی تعداد میں علمائے کرام، مساجد کے آئمہ کرام اور مدرسہ کے اساتذہ بھی شریک تھے۔ جلسہ صبح 7 بجے شروع ہوا، جس میں جید علمائے کرام نے خطاب کیا۔ بعدازاں  نئے فضلاء اور حفاظ کرام کے سروں پر دستارِ فضیلت سجائی گئی۔ اس دوران معصوم بچوں کے رشتہ داروں نے حفاظ کرام کو ہار پہنائے، جس کے بعد انہیں گھروں کو جانا تھا۔

اچانک طیارے آگئے۔ پہلے اس تقریب پر فائرنگ کی اور پھر بمباری شروع ہو گئی۔ جس نے ایک قیامت صغری برپا کر دی۔ چند سیکنڈ میں بیسیوں نہتے شہری اور معصوم بچے شہید اور زخمی ہو گئے۔ شہداء کے اعضاء دور دور بکھر گئے۔ نئے فضلاء اور حفاظ کرام کے سفید کپڑے اور سفید پگڑیاں خون سے سرخ ہو گئیں۔

عوام کا خیال تھا کہ امریکی طیاروں نے بمباری کی ہے۔ کیوں کہ یہ ان کا معمول ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی کے اعلان کے بعد ایسے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ البتہ جب ضمیرفروش حکام نے اس بمباری کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مجاہدین کے فوجی مرکز پر حملہ کیا گیا ہے، جس میں مجاہدین کمانڈروں سمیت غیرملکی مجاہدین کو بھی نشانہ بنایا گیا تو واضح ہوا کہ یہ کٹھ پتلی حکومت کی کارستانی تھی۔

مکار دشمن نے جھوٹ کا سہارا لیا۔ جس کو کچھ زرخرید میڈیا نے بھی شد و مد کے ساتھ شائع کیا۔ خوش قسمتی سے سوشل میڈیا نے دشمن کے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ سوشل میڈیا پر عینی شاہدین کی ویڈیوز اور تصاویر نے بزدل دشمن کو بے نقاب کر دیا۔ سانحہ قندوز نہایت افسوس ناک واقعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری واقعہ ہوگا۔ گزشتہ سترہ برس سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ شکست خوردہ قابض دشمن اپنی ناکامیوں کا غصہ نہتے عوام پر نکالنے لگا ہے۔ جب کہ کٹھ پتلی حکام کو بھی معلوم ہے کہ بے رحم صلیبی قوتوں کی شکست کے ساتھ ہی ان کی بھی چھٹی ہو جائے گی۔ اس لیے وہ مجاہدین کے ساتھ عوام کو بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ نہتے شہریوں کو قتل، قید کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ان کے مذہبی عقائد اور اقدار کے خاتمے کے درپے ہیں۔

بزدل دشمن کو شکست کا سامنا ہے۔ اس لیے وہ مسلم دشمنی پر اتر آیا اور ایسے مظالم ڈھا رہا ہے کہ  کوئی انسانی فطرت اس کے ارتکاب کی جرأت نہیں کر سکتی۔ مگر صلیبی جارحیت پسندوں اور ان کے کٹھ پتلی حکمرانوں نے عوام کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔ شہری مقامات، مساجد، مدارس، بازاروں اور کلینکس پر وحشیانہ بمباری کر رہے ہیں۔ قابض دشمن کی عادت ہے کہ جب اُسے کسی علاقے پر کنٹرول قائم کرنے میں ناکامی ہوتی ہے تو وہاں پر دہشت کا بازار گرم کر کے نہتے شہریوں سے بدلہ لیتا ہے۔ قابض امریکی فوج نے عراق سے انخلا شروع کیا تو جاتے ہوئے خون کی ندیاں بہائیں اور شہروں کو کھنڈرات میں بدل دیا۔ اسی طرح شام سے اِس وقت انخلا کا اعلان کیا کہ وہاں زندوں سےشہداء کی تعداد زیادہ ہے۔

امریکا چاہتا ہےکہ افغانستان میں بھی ایسی صورت حال بنائے۔ وہ یہاں کے غلاموں کو استعمال کر کے سفاکانہ کارروائیاں کرنا چاہتا ہے۔وہ مجاہدین کا بدلہ نہتے شہریوں سے لینا چاہتا ہے۔ قندوز، فراه، میوند، لوگر، میدان وردگ، بدخشان اور دیگر ایسے واقعات واضح ثبوت ہیں۔ دشمن یاد رکھے کہ افغانستان بہادر قوم کی دھرتی ہے۔ یہاں بہت سے حملہ آوروں کو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ امارت اسلامیہ کے سفید پرچم تلے پیغمبر کے پیروکاروں کی ایک باقاعدہ اور منظم جہادی تحریک کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ افغانستان بڑی سلطنتوں کا قبرستان ہے۔ امریکا کا حشر بھی وہی گا، جو دیگر طاغوتی قوتوں کا ہوا تھا۔ ہم اپنے معصوم بچوں کے قاتلوں کو معاف نہیں کریں گے۔وما ذالک علی اللہ بعزیز

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*