کابل انتظامیہ مدارس اور علماء کی دشمن

آج کی بات

 

صوبہ قندوز میں دستاربندی کی تقریب پر وحشیانہ بمباری اور سیکڑوں علمائے کرام،فضلاء اور حفاظ کی شہادت کا واقعہ اسلامی شعائر کے ساتھ کٹھ پتلی حکومت کی دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ کٹھ پتلی حکومت نے مختلف صوبوں میں دینی مدارس کو تباہ کر دیا۔ مساجد کو شہید کیا۔ علماء اور طلباء کو شہید اور گرفتار کیا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری رہے ۔ افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد مدارس، مساجد، علمائے کرام، طالب علموں اور دین دار عوام پر خصوصی حملے شروع ہیں۔ ہزاروں علماء اور طلباء کو دینی علوم سیکھنے کی پاداش میں شہید اور زخمی کر دیا گیا۔ ہزاروں کو حراست میں لیا گیا ۔ اشرف غنی کے دور صدارت میں دینی شعائر، خاص طور پر دینی مدارس اور علمائے کرام پر حملوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ جس کی تازہ مثال قندوز کا الم ناک سانحہ ہے، جس میں سیکڑوں علمائے کرام اور حفاظ کرام شہید اور زخمی ہوئے ۔

اشرف غنی کے انتخاب کے بعد دینی شعائر پر فوجی حملوں کے علاوہ پروپیگنڈا مہم میں بھی تیزی آئی ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے مشیر ’حنیف اتمر‘ نے دورہ ہندوستان کے دوران دینی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی دنیا سے تعاون کا مطالبہ کیا۔ اشرف غنی اور اتمر نے علمائے کرام، دینی مدارس، اسلامی ثقافت اور ملی اقدار کے خلاف خصوصی اخبارات اور ویب سائٹس کا اجراء کیا۔ اسلامی اقدار، علم اور علمائے کرام کی تضحیک کرنے اور ان کی اہمیت ختم کرنے کے لیے کرائے کے صحافیوں۔،ادیبوں اور کالم نگاروں کو خریدا گیا ہے، جو دن رات افغان قوم کی ثقافت، دینی اقدار، علم اور علماء کی توہین کرتے ہیں ۔

قندوز کے ضلع دشت آرچی میں سیکڑوں علمائے کرام، فضلاء اور حفاظ کرام اور عام بے گناہ مسلمانوں کی شہادت کا الم ناک سانحہ سنگین جرم ہے، جس نے دشمن کے دُہرے معیار کو بے نقاب کیا ہے۔ حملہ آور اور کٹھ تپلی حکمران ہمیشہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ علم، علماء، طلباء، دینی مدارس اور مساجد کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کی جنگ صرف دہشت گردی کے خلاف ہے، لیکن دشمن نے وقتا فوقتا مذہبی مقامات اور اسلامی شعائر کے ساتھ اپنی دشمنی کا اظہار کیا ہے ۔

کابل حکومت نے مدارس، مساجد اور مذہبی اجتماعات پر کئی بار حملے کیے ہیں۔ افغان عوام علمائے کرام، مذہبی رہنماؤں، مدارس اور مساجد کی بے حرمتی برداشت نہیں کریں گے۔ وہ ہر حال میں اسلامی اقدار کی حفاظت کریں گے۔ امارت اسلامیہ کی حمایت سے دین اور ملک کے دشمنوں کے تمام منصوبے ناکام بنائیں گے۔ اسلامی نظام کے نفاذ اور اس دھرتی کی آزادی کے لیے جدوجد جاری رکھیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*