امتِ مسلمہ کا مشترکہ المیہ

چند روز قبل یعنی 16/ رجب المرجب 1439 ھ بمطابق   02/ اپریل 2018ءکابل انتظامیہ کی کٹھ پتلی رژیم نے صوبہ قندوز ضلع دشت آرچی میں حفاظ کرام اور علماء کرام کی دستارفضیلت کے جلسے پر اندوہناک بمباری کی، جس کے نتیجے میں 250 شہر میں جن میں علماء کرام، چھوٹے حفاظ کرام اور عام شہری شامل تھے، شہید اور زخمی ہوئے۔

اگرچہ افغانستان اور دنیا کے علاقوں میں اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے باربار مظالم اور قتل عام انجام ہوتا رہتا ہے، مگر  قندوز المیہ کی خصوصی اور قابل توجہ نکتہ یہ تھی کہ یہاں براہ راست اسلامی شعائر پر حملہ کیا گیا۔  مدرسہ، مسجد، قرآن کریم، صحیح بخاری ، علماء کرام اور حفاظ قرآن وہ ہیں، جو اسلام کے مبارک دین کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے نام کے تذکرے سے ہی ہر کسی کے ذہن میں اسلام کے مبارک دین کا تصور آجاتا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ افغانستان، ہمسائیہ ممالک  اور دنیا میں مسلمانوں نے اس المیہ کو اسلام پر حملہ سمجھا  اور اس کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ دنیا کے مسلمانوں نے سماجی اور سوشل میڈیا کے ذریعے افغان مظلوم ملت کیساتھ اپنی ہمدردی اور یکجہتی کا اعلان کیا، جارح امریکیوں کو افغان ملت کے قاتل اور ان کے کٹھ پتلیوں کو اسلامی امت کے غدار تصور کیے  اور ان کے ناجائز جارحیت اور ظالمانہ حاکمیت کو ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔

ملکی اور عالمی سطح پر مسلمانوں کے عمومی ردعمل نے ثابت کردیا کہ  استعمار اور کٹھ پتلی اس سرزمین میں جائز حکمرانی کی  بقاء کے امکانات سے برخوردار نہیں ہے۔  ملک اور خطے کے تمام باشندے ان کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہیں  اور ان کے ظالمانہ اعمال سے نفرت کرتے ہیں۔

قندوز المیہ کے ردعمل میں عالم اسلام کے مسلمانوں کے مشترکہ اور متحد ردعمل سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دنیا کے عام مسلمان اگرچہ بہت مصیبت زدہ ہیں، تقسیم کیے جاچکے ہیں  اور ان سے حکمرانی کا حق چھین لیا جاچکا ہے، مگراس کے باوجود  دلوں میں اپنے دین اور اسلامی شعائر سے دفاع کا جذبہ رکھتے ہیں،  اسلامی اخوت کو برقرار رکھنے کے لیے وفادار ہیں  اور افغان عوام کی طرح  مقبوضہ اقوام کے درد میں برابرکے شریک ہیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان اپنی مؤمن عوام کی نمائندگی سے دنیا کے تمام مسلمانوں  کا شکریہ ادا کرتی ہے، جنہوں نے امریکی غاصب قاتلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں کے خلاف اعتراضی صدا بلند کی ،ان کے اس عمل کے بدلے میں ہم  اللہ تعالی کی دربار سے اجر کے خواہاں ہیں اور  ہمیں یقین ہے کہ اسلام کے دشمنوں کی جانب سے اسی نوعیت کی وحشتیں کبھی بھی ہمارے مؤمن عوام کے جہادی ارادے کو کمزور نہیں کرسکے گا، بلکہ عوام میں مزید دینی شعائر سے بیداری کا جذبہ ابھرے گا  اور انتقام لینے کا عزم قوی تر ہوگا۔ ان شاءاللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*