کٹھ پتلی فوج کا ظلم

آج کی بات

 

صوبہ قندوز کے کے ضلع دشت آرچی کا سانحے میں 300 سے زائد علماء۔کمسن حفاظ اور عام شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ سانحہ ذہنوں سے اُترنے والا نہیں ہے۔ زخمیوں کا خون بِہ رہا ہے۔ عوام کی آنکھیں اشک بار ہیں۔ افغانستان بھر کے لوگ شدتِ غم سے نڈھال ہیں۔ اسی اَثنا میں اشرف غنی کی اجرتی فوج نے قابض امریکی فوج کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں عام شہریوں کو ہراساں کرنے اور ان پر ظلم ڈھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ کے علاقے سوزنیان میں قابض اور کٹھ پتلی فوج نے مقامی آبادی پر چھاپے کے دوران باغات اور سول آبادی پر وحشیانہ بمباری کی۔ 9 افراد کو شہید، جب کہ 60 شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ اس کے علاوہ ٹیوب ویلوں اور باغات و فصلوں کو تباہ اور گاڑیوں کو جلا دیا گیا۔

صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت کے علاقے شاہی کوٹ میں قابض اور اجرتی فوج نے مشترکہ کارروائی کے دوران 20 شہریوں کو گرفتار کیا، جب کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ صوبہ بدخشان کے ضلع جرم کے علاقے فرغامرو میں فوج نے مسجد کے پیش امام کو شہید اور کئی مکانات کو منہدم کر دیا۔ صوبہ اروزگان کے ضلع خاص اروزگان میں قابض فوج کی بمباری میں 2 شہری شہید اور 2 زخمی ہوگئے۔ صوبہ فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے بلوچ میں لیویز اہل کاروں نے ایک پیش امام ’مولوی عبدالودود‘ کو شہید کر دیا۔ صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل کے علاقے ویالہ میں قابض اور کٹھ پتلی فوج نے مشترکہ کارروائی کے دوران علاقے پر چھاپہ مارا۔ وہ مقامی لوگوں کے گھروں میں زبردستی گھس گئی۔ گھروں کے دروازوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک کسان کو شہید، جب کہ تین افراد کو حراست میں لے لیا۔ قیمتی سامان بھی لوٹ لیا گیا۔

کٹھ پتلی فوج نے قابض فوج کے تعاون اور حمایت سے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان کے حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔ درجنوں مساجد، مدارس، اسکولز، کلینکس، دکانیں اور بازار تباہ کر دیے گئے ہیں۔ دشمن کا خیال ہے کہ ظلم و سربریت کے ذریعے اپنی بقا کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبر و ظلم سے اقتدار کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ امارت اسلامیہ کے بہادر مجاہدین دینی اقدار اور قومی مفادات کے تحفظ، سالمیت اور آزادی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کر رہے۔ اِن عظیم مقاصد کے لیے ہر قسم کی قربانی دے رے ہیں۔ وہ ان مقاصد کے لیے جارحیت پسندوں اور کابل حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ مجاہدین نے ماضی میں ثابت کر دیا ہے کہ انہوں نے اپنے مظلوم عوام کا بدلہ ضرور لیا ہے۔ آئندہ بھی اسلام، ملک اور عوام کے دشمنوں سے بدلہ لیا جائے گا۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*