افغان حکام ٹرمپ کے غلام ہیں

آج کی بات

 

سانحہ قندوز کے تین دن بعد کٹھ پتلی فورسز نے قابض قوتوں کے تعاون سے قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ میں نہتے شہریوں کا قتل عام کیا، جس میں 9 عام شہری شہید اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ پکتیکا کے ضلع زرمت اور بدخشان کے ضلع جرم اور اروزگان کے ضلع ترین کوٹ میں اور خاص اروزگان میں مظلوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ گزشتہ رات صوبہ فراہ کے ضلع بالابلوک کے علاقے عرب آباد میں قابض اور کٹھ پتلی فورسز نے مشترکہ کارروائی کے دوران 8 شہریوں کو شہید، 2 بچوں کو زخمی اور 15 افراد کو حراست میں لے لیا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کے فوجی حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان حملوں میں مجاہدین کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جہاں مجاہدین کے کمانڈر ایک اجلاس میں شریک اور حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

انہوں نے سانحہ قندوز کے دوران جو ہرزہ سرائی کی تھی، آج فراہ کے نہتے شہریوں پر بمباری کے بعد وہی پرانے قصیدے سنا رہے ہیں۔ اس واقعے سے ایک دن قبل فراہ کے ضلع بالابلوک کے لوگوں نے گورنر عبدالبصیر سالنگی کے پاس درخواست کی کہ اب فصلیں پَک رہی ہیں۔ حکومت زمینی کارروائی نہ کرے۔ جس سے ہمیں معاشی طور پر بڑا نقصان ہوتا ہے۔مجاہدین نے اپنے تحفظ کے لیے پہلے سے حکمت عملی بنائی ہے۔ تاہم نام نہاد گورنر نے دھمکی دی کہ وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر نقل مکانی کریں یا نیٹو فورسز کی بمباری کے لیے تیار رہیں۔

ایک رات نہیں گزری تھی کہ حملہ آوروں نے ضلع بالابلوک کے علاقے عرف آباد میں چھاپہ مارا۔ کچھ علاقوں پر وحشیانہ بمباری کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ صوبہ فراہ کے عوام کو کٹھ پتلی گورنر کی اس دھمکی نے امریکی صدر کی اس بات کی تصدیق کر دی کہ ’امریکی فوج مخالفین کو قتل کرتے وقت شہری ہلاکتوں کی پروا نہ کرے۔ جہاں مرضی ہو، حملہ کیا جا سکتا ہے۔‘ یہ امریکا کی تازہ حکمت کا اہم حصہ ہے۔ جب گزشتہ سال ٹرمپ نے اگست میں نئی پالیسی کا اعلان کیا، تب سے شہری ہلاکتوں کے گراف میں 88٪ اضافہ ہوا ہے۔

امریکی حملہ آور ظالموں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ کابل کٹھ پتلی اور ضمیر فروش حکمرانوں نے سکیورٹی معاہدے کے تحت افغانستان کو نیلام کر رکھا ہے۔ انہوں نے قابض قوتوں کو ہر قسم کے ظلم و جبر کا پروانہ دے رکھا ہے۔ اب ٹرمپ اور ان کے سفاک جرنیل جس حکمت عملی کا کہتے ہیں، کٹھ پتلی حکومت آنکھیں بند کر کے اس پر عمل کرتی ہے۔ سانحہ قندوز اور فراہ گورنر کی دھمکی اس کا واضح ثبوت ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*