تازہ فتوحات اور دشمن کی بوکھلاہٹ

آج کی بات

 

مجاہدین نے کامیاب منصوری کارروائیوں کے سلسلے میں افغانستان بھر میں ضلعی مراکز، فوجی اڈے، چوکیاں اور وسیع علاقے فتح کیے ہیں۔ دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔ مجاہدین نے بھاری ہتھیار غنیمت میں حاصل کیے ہیں۔ مظلوم عوام کو کابل حکومت کے جرائم پیشہ عناصر کے ظلم سے نجات دلائی ہے۔ تازہ ترین فتوحات کے سلسلے میں گزشتہ رات 2 بجے مجاہدین نے صوبہ غزنی کے ضلع خواجہ عمری پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ضلعی عمارت، پولیس ہیڈکوارٹر اور تین دفاعی چوکیاں فتح ہو گئیں۔ ضلعی گورنر، پولیس سربراہ اور دیگر افسروں سمیت 20 پولیس اہل کار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ جب کہ بھاری مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود غنیمت میں حاصل ہوا۔

علاوہ ازیں مجاہدین نے صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ کے علاقے شاغلی اور سپین کاریز میں بھی دشمن کی چوکیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 3 چوکیاں فتح اور ان میں موجود 17 فوجی اور پولیس اہل کار ہلاک اور 11 سپاہی زخمی ہوگئے۔ جب کہ ایک ٹینک تباہ اور بھاری مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی غنیمت میں ملا۔ صوبہ قندوز کے ضلع امام صاحب کے علاقے کنجک میں دشمن کی چوکیوں پر کیے گئے حملے میں 5 اہل کار ہلاک اور ملیشیا کمانڈر گل سمیت 10 اہل کار زخمی ہو گئے۔ غنیمت میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی حاصل ہوا۔ صوبہ ننگرہار ضلع حصارک کے علاقے میاں صاحب میں مجاہدین کے حملے میں 11 امریکی اور افغان فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ جب کہ بھاری مقدار میں ہتھیار بھی غنیمت میں ملے۔

صوبہ کاپیسا کے ضلع نجراب کے علاقے افغان درہ اور پچغان میں مشترکہ دشمن کا حملہ پسپا کر دیا گیا۔دشمن کے ساتھ جھڑپوں میں 15 فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے، جب کہ مجاہدین کو غنیمت میں اسلحہ بھی ملا۔ مجاہدین نے صوبہ بلخ کے ضلع چاربولک کے علاقے ارزانکار میں 4 اہم گاؤں ’ارز انکارپشتنی، ارزانکارعربی، ارز انکارتیمنی اور ارز انکارتقاوت‘ کو فتح کر کے وہاں سفید پرچم لہرا دیا۔ اس کارروائی میں 7 فوجی ہلاک اور متعدد اہل کار زخمی ہو ئے۔

دشمن نے حال ہی میں خوف اور دہشت کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس نے مختلف علاقوں میں مدارس، اسکولز، کلینکس اور بازاروں کو تباہ اور مختلف حیلوں اور بہانوں سے نہتے شہریوں کو شہید اور زخمی کیا۔ مجاہدین اپنے مظلوم عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا رہے ہیں۔ وہ اپنے مظلوم شہریوں کا بدلہ ضرور لیں گے۔ مجاہدین اپنے حملوں میں مزید شدت لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ دشمن کے زیرقبضہ علاقے فتح کر رہے ہیں۔ مظلوم عوام کو حملہ آوروں اور کابل ادارے کے ظلم و دہشت سے نجات دلا رہے ہیں۔ وہ امن قائم کرنے، عوام کو زراعت و صنعت کی سہولیات فراہم کرنے، دینی اور جدید سائنسی تعلیم سے نئی نسل کو آراستہ کرنے اور تعلیمی ادارے قائم اور فعال بنانے میں مصروف ہیں۔ مجاہدین کی تازہ فتوحات نے دشمن کو بوکھلا دیا ہے۔ ضلع خواجہ عمری کی فتح ایک مثال ہے۔ حملہ آوروں اور کابل حکومت نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ وہ اپنے مسلح اہل کاروں کو حوصلہ دے کر میدان میں کھڑا کر سکیں، لیکن انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ہر روز افغانستان بھر میں مجاہدین فتوحات حاصل کر رہے ہیں، جب کہ دشمن اپنے ہلاک سپائیوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*