الیکشن کے فریبی منصوبے کے حوالے سے امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

28/ رجب المرجب 1439 ھ بمطابق 14/ اپریل 2018ء کو کابل انتطامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے عام انتخابات کے منصوبے کے افتتاح کی تقریب میں امارت اسلامیہ سے اس میں شرکت کا مطالبہ کیا، اس بارے میں ہم اپنے مؤقف کا یوں وضاحت کرتے ہیں :

امارت اسلامیہ کو یقین ہے کہ وطن عزیز افغانستان اجنبی قبضے میں ہے، ملک میں ہزاروں غیرملکی افواج تعینات ہیں،  فوجی اور سیاسی شعبے میں اہم منصوبے استعمار کی جانب سے سرانجام دیے  جاتے ہیں۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے امارت اسلامیہ کے سامنے پہلی ترجیح یہ ہے کہ کس طرح ملک اور عوام کو جارحیت سے نجات دلادیں اور دیگر حقوق کے مانند  سیاسی قیادت کے انتخاب یا انتصاب کے غصب شدہ حق کو دوبارہ استعمار سے حاصل کریں۔

اگر جارحیت کے زیرسایہ  عوامی قائد یا کونسلوں کا انتخاب کیا جاتا ہے،  تو یہ ملک اور مسلمان ملت سے عظیم جفا اور  صرف اہل وطن اور عالمی برادری کو ورغلانا ہے، کیونکہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ گذشتہ الیکشن میں عوام کو انتخاب کے نام پر دھوکہ دی گئی ، مگر آخری فیصلہ پھر بھی امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سنادیا اور امریکی سفارت خانے میں امریکی حکام کی جانب سے ملی وحدت کے نام سے حکومت نصب اور اس کا اعلان کردیا گیا۔

آئندہ الیکشن سے بھی اس کے علاوہ کوئی اور توقع نہیں کی جاسکتی، اقتدار اس کے شخص کے حوالے کیا جائیگا، جسکا قبل ہی وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان میں منتخب کیا گیا ہے۔ لہذا امارت اسلامیہ اپنی مسلمان اور مجاہد عوام  سے اپیل کرتی ہے کہ انتخابات کے نام سے اس نمائشی اور جعلی منصوبے میں شرکت کے بجائے اس سے بائیکاٹ کریں اور غاصب امریکہ سے اپنے ملک کی خودمختاری اور وہاں مستقل اور مشروع نظام کے نفاذ کی خاطر اپنے دینی اور ملی ذمہ داری کو نبھائے اور اپنی تمام تر قوت کافروں کو بھگانے اور اسلامی نظام کے قیام میں صرف کریں۔

والسلام

امارت اسلامیہ افغانستان

29/ رجب المرجب 1439 ھ بمطابق 15/ اپریل 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*