معصوم لوگوں کا قتل جرم ہے

آج کی بات

 

حملہ آوروں اور کابل حکومت نے شروع سے مجاہدین کے بجائے معصوم لوگوں کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ سفاک دشمن مجاہدین کا سامنا نہیں کر سکتا۔ مجاہدین کے ہاتھوں اپنی ہلاکتوں کا بدلہ نہتے شہریوں سے لیتا ہے۔ دشمن نے ایک بار پھر شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان کے گھروں کو تباہ کرنے پر زور دیا ہے۔ اس نے مختلف علاقوں میں ظلم و سربریت کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دشت آرچی کا سانحہ اس کی مثال ہے۔

دشمن کی فضائی اور زمینی کارروائیوں میں نہتے شہریوں کو زیادہ جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔ دشمن ہمیشہ شہریوں کی ہلاکتوں سے انکار کرتا ہے۔ اگر مجبورا کسی واقعے کا اعتراف کرتا ہے تو پھر یہ الزام لگاتا ہے کہ ہماری یہ کارروائی مجاہدین پر ردعمل میں تھی، جس میں شہریوں کو نقصان ہو۔ تاہم قندوز کے ضلع دشت آرچی کا سانحہ واضح ثبوت ہے کہ اس حملے سے قبل مجاہدین نے دشمن پر حملہ کیا تھا اور نہ ہی اس علاقے میں مجاہدین موجود تھے۔ امارت اسلامیہ شہری ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ امارت اسلامیہ نے شہری ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے ایک مؤثر اور باصلاحیت ادارہ قائم کیا ہے، جو شہری ہلاکتوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اگر کسی واقعے میں مجاہدین ملوث ہوں تو انہیں عدالت میں پیش کر کے اسلامی قوانین کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ حملہ آور اور ان کی کٹھ پتلی فورسز جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے میں سرفہرست ہے۔ اس کے باوجود وہ انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے جھوٹے نعرے لگا رہے ہیں۔ دشمن نے بار بار شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان کے گھروں کو تباہ کرنے کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ آج تک کسی مجرم کو سزا دی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے تحقیقات کر کے ملوث عناصر کو عدالت کے کٹہرے میں پیش کیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دشمن محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے انسانیت اور انسانی ہمدردی کے جھوٹے دعوے کر رہا ہے۔ جب کہ عملی طور پر اس کا کردار برعکس ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*