تعلیم دشمن افغان انتظامیہ

آج کی بات

 

گزشتہ ایک ہفتے سے صوبہ ننگرہار کے ضلع مہمندرہ میں اسکول جلانے کے تیسرے واقعے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے ضلع مہمندرہ میں ایمل خان کالج کو، جس کی عمارت ضلعی مرکز کے ساتھ ہے، تعلیم دشمن عناصر نے جلا دیا۔ اس کے بعد داعش اور کٹھ پتلی انتظامیہ کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے ’ہزارناؤ‘میں دوسرا اسکول جلا دیا۔ اس علاقے میں اسکول کے آس پاس کٹھ پتلی فورسز کی کئی چوکیوں میں دن رات افغان فوج اور داعش کے جنگجو موجود رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک ایسے حساس علاقے میں اسکول کو جلانا سوالیہ نشان ہے۔ تیسرے واقعے میں گردی غوث کی قومی شاہراہ پر واقع سکول جلا دیا گیا۔ یہ علاقہ بھی کٹھ پتلی انتظامیہ کے زیراثر ہے۔ جب کہ اسکول کے قریب سکیورٹی چیک پوسٹ بھی موجود ہے۔

حکومت کے زیراثر اتنے حساس علاقوں میں مشہور تعلیمی مراکزکو جلانا حیرت انگیز ہے۔ سفاک دشمن نے ان واقعات کے بعد لاعلمی کا اظہار کر کے بری الذمہ ہونے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ننگرہار میں امارت اسلامیہ کے مقامی رہنماؤں نے ان واقعات کی شدید مذمت کی اور انہیں کٹھ پتلی حکومت کی کارستانی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تعلیمی مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان واقعات میں کٹھ پتلی فورسز اور داعش عناصر ملوث ہیں۔ داعشی عناصر نے چند ہفتے قبل مہمندرہ کے علاقے گردی غوث میں ایک مزار اور اس کے قریب ایک مسجد بھی بموں سے اڑا دی تھی۔ اس واقعے میں عام شہریوں کو بھی جانی نقصان پہنچا تھا۔

بلاشبہ ان تمام انسانیت دشمن اور اسلام دشمن اقدامات کے پیچھے امریکی جارحیت پسندوں کا ہاتھ ہے۔ خواہ وہ مدارس پر بمباری ہو، اسکولز جلانے کے واقعات ہوں یا عام شہریوں کو قتل کرنے کے جرائم، ان تمام واقعات میں امریکا براہ راست یا بالواسطہ ملوث ہے۔ امریکی جارحیت پسند کابل حکومت اور داعشی عناصر کے ذریعے سوچے سمجھے منصوبے اور پالیسی پر عمل پیرا ہیں، تاکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلا کر ٹرمپ کی پالیسی کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق دو روز قبل کٹھ پتلی فورسز نے صوبہ لوگر کے ضلع خروار میں سرچ آپریشن کیا۔ جب آپریشن کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو قومی شاہراہ پر واقع بازار میں ڈیڑھ سو دکانوں کے دروازے توڑ کر قیمتی سامان لوٹ لیا۔

کابل فوج اپنے جرائم کی وجہ سے عوام میں انتہائی نفرت زدہ ہو چکی ہے۔ اب وہ لوٹ مار کے ذریعے مال کمانے کی کوشش میں ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ افغان عوام، پتھر، پودے، پہاڑ اور صحرا سب اس کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ اس لیے سفاک دشمن نے نہتے شہریوں،مدارس، اسکولز اور عوامی افادیت کے حامل مقامات تباہ کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ہم اللہ تعالی کے حضور دعا کرتے ہیں کہ افغان عوام کو اسلام پر ہمیشہ قائم رکھے۔ اور افغانستان کے ان ازلی دشمنوں کو نیست و نابود کرے۔ اللہ تعالی قابض امریکی فوج اور اس کے حواریوں سے اس ملک اور قوم کو نجات دے۔ آمین یارب العالمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*