عوام کی جانب سے انتخابات کا مکمل بائیکاٹ

کافی دنوں سے کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے آئندہ الیکشن کے لیے اندراج مہم کا رسمی افتتاح کیا  اور ساتھ ہی عوام کو اندراج کروانے کے لیے مزدور ذرائع ابلاغ نے بھی  پروپیگنڈوں میں تیزی لائی ہے، مگر   اس کے باوجود عوام اس منصوبے میں شرکت کے لیے حاضر   ہوتے اور   نہ ہی آئندہ انتخابات کی فہرستوں میں  اپنے نام کا اندراج کرواتے۔

اندراج کے نام سے منصوبے کے متعلق ہونے والی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ اب تک صرف سرکاری حکام نے اندراج کے مراکز کا  رخ کیا ، وہ بھی بہت ہی کم تعداد میں ۔ مثال کے طور پر بلخ کے سابق گورنر عطاءمحمد نور نے ایک روز قبل اعتراف کیا کہ مزارشریف شہر کی آبادی 350،000،0 پینتیس لاکھ ہے اور تاحال صرف 350،0 تین ہزار پانچ سو افراد نے انتخابات میں شرکت کے لیے اندراج کی ہے۔

اندراج کے منصوبے سے افغان عوام کی مکمل بائیکاٹ اور عدم شرکت نے درحقیقت جارحیت کے زیر کنٹرول  الیکشن ڈرامہ کو عوام کا وہ  فیصلہ کن جواب یا رد عمل ہے،جو ہماری عوام کی سیاسی شعور کی عظمت پر دلالت کررہا ہے۔ عام شہری جانتے ہیں کہ ملک براہ راست قبضہ ہے، انتخابات کا منصوبہ جعلی اور کاذب ہے اور ملک کے حکمران کا انتخاب امریکی غاصبوں کے پاس ہے۔

عوام نے الیکشن منصوبے سے ملک بھر بائیکاٹ کا اعلان کیا، ان کے اس مؤقف کے لیے اظہرمن الشمس دلائل ہیں۔ عوام کو اچھی طرح یاد ہےکہ گذشتہ انتخابات میں آخری فیصلہ کس کی جانب سے ہوا  اور امریکی حکام نے کتنی بےشرمی سے افغان عوام کے سیاسی قسمت کا تمسخر اڑا دیا۔

افغان عوام کی جانب سے انتخابات منصوبے کے ملک بھر میں بائیکاٹ تمام بیرونی غاصبوں، ان کے پالیسی سازوں اور حتی ان  کی عوام کے لیے یہ پیغام ہے کہ افغان عوام مزید ملک میں ان کی فوجی موجودگی اور نہ ہی ان کی جانب سے نصب کردہ حکومتیں، انتخاباتی ڈرامے اور دیگر منصوبوں کو قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ افغان عوام کے اس عملی ردعمل کو عالمی برادری اور باالخصوص غاصب ممالک اور ان کی عوام سختی سے مشاہدہ کرینگے اور گہری نظر سے اس کاجائزہ لیں گے،کیونکہ جب کوئی ملت کسی کی جارحیت کو نہیں مانتی  اور یا ان کے طاقت کے بل بوتے پر جمہوریت کے تحت زندگی گزارتی ہے، تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ طویل مدت میں ایسی ملت پر خود کو  مسلط کرسکے؟ اگر بات صرف اسلحہ کی طاقت پر ملت پر اپنے آپ کو  مسلط کرنا ہے، تو تاریخ سے ثابت کرتی ہے کہ طاقت کی حکمرانی کافی دیر تک جاری نہیں  رہتی  اور متداوم لڑائی سے جانبین کو نقصان پہنچنے کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں رکھتی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*