الخندق آپریشن: امارت کی عسکری حکمت عملی

آج کی بات

 

گزشتہ روز امارت اسلامیہ افغانستان نے حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت کے خلاف افغانستان بھر میں ’الخندق‘نام سے موسم بہار کی آمد کے موقع پر نئے آپریشن آغاز کر دیا ہے۔ امارت اسلامیہ ہر سال نئے نام اور نئی حکمت عملی کے ساتھ اپنی کارروائیوں کا اعلان کرتی ہے۔ دشمن نے معمول کے طور پر الخندق آپریشن کو بھی مجاہدین کا پروپیگنڈا قرار دیا، لیکن بعد میں نہ صرف اقرار کیا، بلکہ اس کے ہلاکت خیز اثرات پر واویلا بھی کرنے لگا۔ گزشتہ روز الخندق آپریشن کا پہلا دن تھا۔ مجاہدین نے حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فوج پر 132 حملے کیے۔ ان حملوں میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔ متعدد علاقے بھی مجاہدین کے کنٹرول میں آ گئے۔

گزشتہ سال بھی منصوری آپریشن کے نتیجے میں دشمن کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بہت سے علاقوں سے دشمن کو پسپا کر کے وہاں امن کا سفید پرچم لہرایا گیا تھا۔ تب بھی دشمن نے منصوری آپریشن کو ایک پروپیگنڈا قرار دیا۔لیکن منصوری آپریشن کے دوران دشمن کی چیخیں پینٹاگون تک پہنچ گئیں۔ مجاہدین کے جنگی وسائل حملہ آوروں اور کٹھ تپلی فوج کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ مجاہدین نظریاتی طور پر اتنے مضبوط اور طاقت ور ہیں کہ دشمن ان کا کسی قیمت پر مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ مجاہدین کا وہ امتیاز ہے، جس سے دشمن محروم ہے۔ حق و باطل کی موجودہ جنگ میں دشمن ہر قسم کے وسائل اور ہتھیاروں سے لیس ہے۔ جب کہ مجاہدین مادی وسائل کے لحاظ سے کمزور ہیں۔ اس کے باوجود اس جنگ میں مجاہدین دشمن پر حاوی ہیں۔ جس کا اعتراف دشمن نے بھی کیا ہے کہ مجاہدین جب اور جہاں چاہیں، اپنے ہدف تک پہنچ سکتے ہیں۔ مثلا مجاہدین نے منصوری آپریشن کے دوران کابل میں انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل پر کامیاب حملہ کیا، جس نے دشمن کی فوجی اور انٹیلی جنس قوت کی کمزوری دنیا پر واضح ہو گئی۔

امارت سلامیہ کی حکمت عملی یہ بھی ہے کہ ہر سال نئے نام سے آپریشن کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں کٹھ پتلی حکومت بھی مجاہدین کی تقلید کرتی ہے، مگر ثقافتی لحاظ سے اس کی کمزور اور بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں کو امارت اسلامیہ کے گزشتہ آپریشنز کے نام سے موسوم کرتی ہے۔ الخندق آپریشن کے آغاز میں یہ کہا گیا تھا کہ اولین ترجیحات میں قابض فوج، حملہ آور اور کٹھ پتلی حکومت کے فوجی و انٹیلی جنس مراکز اور حکومت کے اعلی حکام شامل ہیں۔ گزشتہ سالوں کے کامیاب آپریشنز کو دیکھ کر الخندق آپریشن بھی کامیاب رہے گا۔ دشمن کے بہت سے علاقوں میں موجود اڈوے اور چوکیاں فتح کر کے عوام کو شرعی نظام کی روشنی، آزادی، امن اور خوش حال زندگی کا ماحول فراہم کیا جائے گا۔

ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*