الخندق آپریشن: 3 دن میں 300 حملے

آج کی بات

 

گزشتہ دنوں امارت اسلامیہ نے حملہ آوروں اور کابل حکومت کے خلاف الخندق آپریشن کا اعلان کیا۔ مجاہدین نے افغانستان بھر میں اللہ اکبر کے نعروں کی گونج میں الخندق آپریشن شروع کیا۔ حملہ آوروں اور ان کے حواریوں کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ الخندق آپریشن نے دشمن کو اتنا خوف زدہ کر دیا ہے کہ وہ میڈیا کے سامنے آ کر جواب دینے کے قابل بھی نہیں رہا۔

مجاہدین نے الخندق آپریشن کے پہلے دن دشمن کی چوکیوں ، فوجی اڈوں اور مضبوط ٹھکانوں پر 123 حملے کیے ۔ ان حملوں میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ۔ متعدد علاقوں پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول قائم کیا اور بھاری مقدار میں ہتھیار بھی غنیمت میں حاصل کیے۔ الخندق آپریشن کے دوسرے دن بھی حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فورسز کی چوکیوں ، فوجی اڈوں اور مراکز پر بھرپور حملے ہوئے۔ مختلف صوبوں اور اضلاع میں مجاہدین نے پیش رفت کی اور دشمن کے زیرقبضہ علاقے فتح ہوئے۔ ان حملوں میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔

الخندق آپریشن کے تیسرے دن بھی دشمن کے مراکز پر حملے کیے  گئے۔ متعدد علاقوں سے کٹھ پتلی فورسز کو پسپا کیا گیا ۔ دشمن اپنی لاشیں اور ہتھیار میدان جنگ پر چھوڑ کر فرار ہو گیا ۔ اسی دن صوبہ لوگر میں ڈپٹی گورنر شکیب کو مجاہدین نے ہلاک کر دیا ۔ قندوز کے ضلع قلعہ زال میں پولیس ہیڈکوارٹر، فوجی اڈہ اور وسیع علاقہ مجاہدین نے فتح کر لیا۔ اس معرکے میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔ الخندق آپریشن کے اعلان اور آغاز کے بعد فوج، پولیس اور درجنوں لیویز اہل کاروں نے ہتھیار پھینک کر امارتِ اسلامیہ کے سامنے سرنڈر ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ حملہ آوروں کے ساتھ کام کرنے والے کابل انتظامیہ کے عملے اور اہل کاروں کے لیے یہ بہترین موقع ہے ۔ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر مجاہدین کے ساتھ رابطہ قائم کریں ۔ ہتھیار اور گولہ بارود مجاہدین کے حوالے کر دیں۔ قوم کے خلاف جنگ سے دست بردار ہو جائیں ۔ امارت اسلامیہ کٹھ پتلی حکومت میں شامل ان تمام افراد کو جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے، جو امارت اسلامیہ کے سامنے سرنڈر ہو کر امریکی مفادات کے تحفظ کی جنگ سے دست برداری کا اعلان کرتے ہیں۔

افغانستان بھر میں دشمن پر جارحانہ حملے ہو رہے ہیں ۔ دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ کٹھ پتلی فورسز کے حوصلے پست ہیں۔ وہ ہر جانب سے پسپا ہو رہی ہے۔ الخندق آپریشن کے پہلے تین دن کے دوران مجاہدین نے دشمن پر تین سو سے زائد حملے کیے ۔ گزشتہ تجربات کو دیکھتے ہوئے مجاہدین نے نئی حکمت عملی کے ساتھ منصوبہ بندی کی ہے ۔ الخندق آپریشن کی کامیابی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جارحیت پسندوں اور کابل حکومت کو بھاری نقصان ہو گا۔ ان کا عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*