الخندق آپریشن کی فتوحات

آج کی بات

 

امارت اسلامیہ نے منصوری آپریشن کی کامیاب کارروائیوں کے بعد چند روز قبل قابض اور کٹھ پتلی فوج کے خلاف الخندق آپریشن کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مجاہدین نے الخندق آپریشن کے تحت مکار دشمن کے ضلعی سطح پر کئی علاقوں اور بڑے فوجی اڈے فتح کر لیے ہیں۔ جب کہ کٹھ پتلی فوج کے درجنوں  فوجی، پولیس اور ملیشیا اہل کار ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ان میں کئی اعلی حکام بھی شامل ہیں۔اسی طرح قابض امریکی فوج کے زیرکنٹرول بگرام ایئر بیس پر بھی مجاہدین نے میزائل کیے ہیں،  جن سے امریکی فوج کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

امارت اسلامیہ دینی اقدار کے تحفظ، خطے کی سالمیت اور قابض قوتوں کے خلاف برسرپیکار ایک مضبوط اور طاقت ور جہاد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے۔ قابض فوج دینی اقدار سے اور نہتے شہریوں تک کو نشانہ بناتی ہے۔ علمائے کرام، قرآن کریم کے حفاظ، قبائلی رہنماؤں اور عام افغانوں کا قتل عام اس کا مشغلہ ہے۔ شہروں،صحت کے مراکز، مقدس یادگاروں، فصلوں اور باغات صفحہ ہستی سے مٹانا اس کا مشن ہے۔ ان کے جیلوں میں ہزاروں نہتے شہری بلاجرم قید ہیں۔ کٹھ پتلی حکام امریکی جارحیت پسندوں کی ہولناکیوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ بسا اواقعات ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں، جن میں جارحیت پسندوں کے جرائم کی ذمہ داری کٹھ پتلی حکومت نے قبول کر لی۔

امارت اسلامیہ نے قابض اور کٹھ پتلی فوج کے خاتمے کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے الخندق آپریشن کا اعلان کیا، تاکہ افغانستان کو امریکی اور اس کی کٹھ پتلی فوج سے آزاد کر کے یہاں اسلامی نظام نافذ کیا جا سکے۔ کٹھ پتلی حکام یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ الخندق آپریشن کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 ذی القعدہ پانچ ہجری کو رکھی تھ۔ یہود اور مشرکین نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کے لیے ہمہ قسم وسائل سے لیس 24 ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا، جس کا راستہ روکنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے اردگرد خندق کھودنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ لشکرِکفار نے ایک ماہ مسلسل زورآزمائی کی، لیکن وہ ایک انچ بھی پیش رفت نہ کر سکا۔ آخر کار اس کا لشکر شکست سے دوچار ہو کر راہ فرار اختیار کر گیا۔

ہمیں امید ہے اللہ تعالی اس نبوی جہادی بنیاد کی برکت اور نسبت سے مجاہدین کے حملوں میں مزید قوت اور طاقت پیدا کر کے قابض امریکا اور کٹھ پتلی فوج کو ناکام بنائیں گے۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*