دشمن شکست کا بدلہ بذریعہ ظلم لیتا ہے

آج کی بات

 

ایک ہفتہ قبل مجاہدین نے "الخندق” آپریشن کا اعلان کیا اور ساتھ ہی دشمن پر خوف ناک حملوں کا آغاز بھی کر دیا۔ جس کے نتیجے میں قابض اور کٹھ پتلی فورسز کو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ کئی علاقوں سے دشمن کو پسپا کر دیا گیا۔ اہم کمانڈرز مجاہدین کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔ جب کہ مجاہدین کو ان کے مقابلے میں بہت کم جانی نقصان ہوا ہے۔ مجاہدین گوریلا حملے کرتے اور نئی حکمت عملی کے ساتھ دشمن پر حملہ آور  ہیں۔ اس لیے مجاہدین کو بہت کم نقصان پہنچتا ہے۔

امریکی جارحیت پسندوں نے ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کے بعد بڑے غرور سے فیصلہ کیا تھا کہ مجاہدین کو طاقت کے بے دریغ استعمال، سربریت اور فضائی حملوں کے ذریعے شکست دی جائے گی۔ کٹھ پتلی حکومت نے بھی دشمن پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا کہ مجاہدین کو شکست دی جائے گی۔ جب کہ معاملہ برعکس نکلا۔ مجاہدین کے بجائے دشمن مغلوب اور پسپا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے دشمن اب بین الاقوامی سطح پر رسوائی سے بچنے کے لیے فوجی آپریشن کے نام نہاد اعلانات کر کے عوام کا قتل عام کر رہا ہے۔ گزشتہ روز کٹھ پتلی فورسز نے غیرملکی آقاؤں کی آشیرباد سے ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ کے علاقے باباجی میں مغرب کے وقت ایک مسجد پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 23 نمازی شہید اور زخمی ہو گئے۔

اس وحشیانہ بمباری میں 8 نمازی شہید، جب کہ 15 زخمی ہوئے۔ کئی لوگ ملبے تلے دب گئے۔ جنہیں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا۔ جن میں بھی کچھ لوگ شہید اور کچھ زخمی تھے۔

یہ ایک واقعہ نہیں ہے۔ حال ہی میں قابض امریکی فورسز نے اپنی ناکامی اور شکست چھپانے کے لیے ایسے کئی المناک مظالم ڈھائے ہیں۔ سانحہ قندوز پوری دنیا کے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ نہتے شہریوں کے مکانات، مدارس و مساجد کو نشانہ بنانا اور غریب عوام کا قتل عام کرنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے۔

قابض امریکی اور کٹھ پتلی فورسز کے اس ظلم سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مجاہدین کو زیر کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ اس لیے وہ اپنی شکست کا بدلہ ظلم کے ذریعے لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجاہدین کے حملوں کا بدلہ عوام سے لینے کے لیے انہیں مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ انسانیت دشمن اور ناقابل فراموش مجرمانہ عمل ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*