الخندق آپريشن كی فتوحات

آج کی بات

 

گزشتہ روز مجاہدین نے صوبہ بغلان کے ضلع تالا و برفک اور صوبہ سرپل میں بلچراغ فتح کر لیا۔ جب کہ چار روز قبل صوبہ بدخشان کا ضلع کوہستان بھی فتح کیا جا چکا ہے۔ الخندق آپریشن کے آغاز سے اب تک چودہ روز کے دوران 5 اضلاع فتح کیے جا چکے ہیں۔ مجاہدین نے اتنے مختصر وقت میں صوبہ فراہ کے ضلع آنار درہ، غزنی میں ضلع خواجہ عمری، قندوز کے ضلع قلعہ زال، بدخشان کے کوہستان، بغلان کے تالا وبرفک اور فاریاب کے ضلع بلچراغ فتح کیے ہیں۔ جب کہ متعدد اضلاع کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ امارت اسلامیہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران درجنوں ملکی اور غیرملکی فوجی ہلاک کیے گئے ہیں۔ جب کہ سیکڑوں مسلح اہل کار مجاہدین کے سامنے سرنڈر ہو چکے ہیں۔ صوبہ فاریاب کی صوبائی کونسل کے ارکان کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں 80 فوجیوں نے حکومت سے الگ ہو کر امارت اسلامیہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

علاوہ ازیں پارلیمنٹ کے ارکان نے کہا ہے کہ صوبہ بدخشان میں تین دن کی لڑائی کے دوران سو سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ جب سے مجاہدین نے حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فورسز کے خلاف الخندق آپریشن کا اعلان کیا ہے، تب سے دشمن حواس باختہ ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق غیرملکی فوج کو ہلمند میں مجاہدین کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ جس کے باعث اس پر خوف طاری ہے۔رپورٹ کے مطابق ’مجاہدین بلند حوصلے کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں۔ ان کا نظم و ضبط اور حکمت عملی حیران کن ہے۔‘

امارت کی نئی حکمت عملی یہ بھی ہے کہ اس نے بڑے شہروں اور مرکزی علاقوں کے علاوہ دور دارز اضلاع میں بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس کے باعث دشمن منتشر ہے اور اس کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کامیاب حکمت عملی کے باعث مجاہدین کے کنٹرول کا دائرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران درجنوں چوکیاں اور اہم علاقے فتح ہوئے ہیں۔ مزید چھ اضلاع پر کنٹرول قائم ہوا ہے۔ بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی ہاتھ لگا ہے۔ دوسری جانب مجاہدین کا جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کا مورال نہایت بلند ہے۔ وہ بلند حوصلے کے ساتھ دشمن پر حملے کر رہے ہیں۔ دریں اثنا دشمن کی صورت حال یہ ہے کہ جارحیت پسند بھی اس جنگ سے بددل ہو گئے ہیں۔ ان کے نزدیک پیش رفت اور کامیابی کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔ حکومت اور فورسز کے درمیان شدید اختلافات نے نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ کٹھ پتلی، کرپٹ اور نااہل حکومت کی ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ حکومت کی اندرونی صورت حال یہ ہے کہ اعلی حکام آپس میں بھیڑ اور بھیڑیے کی طرح رہتے ہیں۔ چوری، کرپشن اور قابض قوتوں کے مفادات کے تحفظ میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مجاہدین نے ان پر حملے بڑھا دیے ہیں۔ ہر جگہ فوجی اہل کاروں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ کٹھ پتلی حکومت حواس باختہ ہے۔ وہ سیکڑوں اہل کاروں کی ہلاکتوں پر خاموش ہے۔ حکومت کو احساس ہی نہیں ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مسلح اہل کار کیوں قتل ہو رہے ہیں؟ نہ ہی فورسز کو یہ احساس ہے کہ آخر کیوں اور کس مقصد کے لیے وہ ہلاک کیے جا رہے ہیں؟ اس کا فائدہ کس کو ہو رہاہے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ کابل حکومت اپنے گریبان میں جھانکے۔ قابض قوتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے خطے کی سلامتی داؤ پر نہ لگائے۔ نوجوانوں کو فوج کے نام پر جنگ میں بطور ایندھن استعمال نہ کرے۔ ان کی مجبوری اور جہالت سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ اس ناکام جنگ سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ کمیونسٹ حکومت کی طرح ان کا حشر بھی عبرت ناک ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*