امارت اسلامیہ ثابت قدم ہے

آج کی بات

 

الخندق آپریشن کے تحت مجاہدین کی جہادی کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن بوکھلا گیا ہے۔ مجاہدین نے مختلف صوبوں میں دشمن کے زیرکنٹرول علاقے فتح کیے ہیں۔ کٹھ پتلی فوج اپنے ہتھیار اور فوجی گاڑیاں میدان جنگ میں چھوڑ کر پسپا ہو رہی ہے۔ بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود مجاہدین نے قبضے میں لے لیا ہے۔ دشمن نے نہتے عوام کو نشانہ بنانے کا سفاکانہ عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ سربریت اور دہشت کے ذریعے وہ اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ جب کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تشدد اور جبر کا دور زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

الخندق آپریشن کے دو ہفتوں کے دوران بہادر مجاہدین نے حملہ آوروں کے فوجی اڈوں پر مزائل داغے، جس کے باعث دشمن کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں غیور مجاہدین نے قلعہ زال، کوہستان، بل چراغ، تالا و برفک اضلاع بھی فتح کیے ہیں۔ مجاہدین نے شمالی صوبوں کے دس سے زائد اضلاع کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ دیگر صوبوں کے بہت سے علاقے دشمن کے تسلط سے آزاد کرا لیے گئے ہیں۔

مجاہدین نے الخندق آپریشن کے پہلے دن 132، دوسرے دن 100 اور تیسرے دن 100 سے زائد حملے کیے۔ الخندق آپریشن کے آغاز سے ہر روز مجاہدین سو سے زائد کاروائیاں کرتے ہیں، جن کے باعث قابض اور کٹھ پتلی دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

الخندق آپریشن نے دشمن کو حواس باختہ اور مرعوب کر دیا ہے۔ وہ امارت کے نام سے جعلی خطوط شائع کر کے مجاہدین میں پھوٹ ڈالنے کی بھی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ زرخرید میڈیا کے ذریعے اختلافات پیدا کرنے کی ناکام کوشش میں ہے۔ ان تمام سازشوں اور جعلی کارروائیوں کے باوجود دشمن نہ صرف اپنی چالوں میں کامیاب نہیں ہو سکا، بلکہ ان سازشوں اور جعلی کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کا مکرہ چہرہ بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔

امارت اسلامیہ اللہ تعالی کی رضا کے لئے جہاد کر رہی ہے۔ اللہ کی راہ میں لازوال قربانیاں دی گئی ہیں۔ مجاہدین کا اپنی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔ وہ قیادت کے ہر حکم کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہ اپنی قیادت کے اخلاص، ہمت اور حکمت عملی پر فخر کرتے ہیں۔ مجاہدین مرحوم امیرالمؤمنین، شہید امیرالمؤمنین اور امیرالمؤمنین شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ حفظہ اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے افغانستان کو قابض استعماری قوتوں سے آزاد کرا کر اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھیں گے۔

الخندق آپریشن نے ثابت کر دیا ہے کہ امارت اسلامیہ دین و ملت کے دفاع کی خاطر دشمن کے ظلم اور سربریت کی پروا نہیں کرتی۔ وہ اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی حمایت سے دشمن کے خلاف برسرپیکار ہے۔ وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ افغانستان میں قابض فوج کے کمانڈر جنرل نکولسن نے متعد بار کہا ہے کہ ‘مجاہدین پر فوجی، سیاسی، مذہبی اور سماجی دباؤ  برقرار رکھیں گے۔’ دوسری طرف اللہ تعالی کے فضل و کرم سے دشمن کے دباؤ سے مجاہدین کی کارروائیوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ مجاہدین کے عزائم اور ہمت مزید مستحکم ہو رہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*