شہری ہلاکتیں قانونی ہیں، امریکا

آج کی بات

 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہماری فوج کی جانب سے افغانستان میں کیے جانے والے تمام اقدامات فوجی اصولوں کے مطابق ہیں۔ حتی کہ اگر افغان شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں تو یہ امریکی فوج کے لیے قانونی اور جائز عمل ہے۔ امریکی فوجی سربراہ ’کرسٹوفر گیری‘ نے کہا ہے ’افغانستان میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے امریکی فوجیوں کو اس جرم کی پاداش میں عدالت میں پیش نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ امریکی فوجی کارروائیاں عسکری ضروریات کے تحت ہو رہی ہیں۔‘

حقیقت یہ ہے کہ کرسٹوفر گیری نے اپنے دل کی بات کی ہے نہتے افغان عوام سے متعلق امریکی جارحیت پسندوں کی سیاست اور سفاکانہ چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ اسلام اور انسانیت کے دشمن امریکا 17 سال سے افغانستان میں مظلوم اور نہتے عوام کو کچل رہا ہے۔فضائی، ڈرون حملے اور خطرناک ہتھیار استعمال کر کے تین لاکھ سے زائد شہریوں کو شہید کر چکا ہے۔ جب کہ پندرہ لاکھ سے زائد افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سیکڑوں مساجد، دینی مدارس، اسکولز اور صحت کے مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ صوبہ کنڑ کے سابق گورنر نے گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں کرسٹوفر گیری کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کو سکیورٹی معاہدے کے تحت کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس لیے وہ شہری آبادی کو بے دریغ نشانہ بنا رہی ہے۔ اسے عوامی قتلِ عام کا لائسنس فراہم کیا گیا ہے۔

گورنر نے کہا کہ ’ہم جب بھی امریکا سے شہری ہلاکتوں بارے بات کرتے ہیں تو وہ اسے برا مانتا ہے۔ حتی کہ وہ ہمیں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی یا تعزیت تک کرنے سے روکتا ہے۔‘ اگر امریکا اور اس کے حواری یہ سمجھتے ہیں کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان پر جبر و ستم ڈھانے سے افغان عوام کو امریکی غلامی قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ 17 سال سے وہ تجربہ کر چکا ہے۔ قابض اور غدار یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ایک افغان شہری کو شہید کرنے سے درجنوں افغان عوام اپنے شہید بھائی کا انتقام لینے کے لیے ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔ وہ اپنے عزیز اور دوست کا بدلہ لیے بغیر گھر واپس نہیں لوٹتے۔ اگر امریکا اپنے فوجی قاتلوں کو عدالت میں پیش نہیں کرتا تو اللہ تعالی کی مدد سے افغان عوام یہ کام نہایت خوش اسلوبی سے کر سکتے ہیں۔ جہاد کی تلوار سے 17 سالوں میں ہزاروں امریکی فوجیوں کو انجام تک پہنچایا گیا ہے۔ قاتل امریکی فوجیوں کو ٹھکانے لگانے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*