الخندق آپریشن: ایک دن کی کارروائیاں

آج کی بات

 

الخندق آپریشن کے سلسلے میں صرف ایک دن میں قابض اور کٹھ پتلی فورسز پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے ہیں۔ متعدد علاقوں سے فورسز کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔ مجاہدین نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ضبط کر لیا ہے۔ کٹھ پتلی حکومت کے 500 اہل کار مجاہدین کے سامنے سرنڈر ہوئے اور امارت اسلامیہ میں شامل ہو گئے۔ مجاہدین کے بڑے حملوں کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

مجاہدین نے صوبہ غور کے ضلع دولینہ کے مضافات میں 12 ہزار گھروں پر مشتمل ایک بڑے علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر کے سفید پرچم لہرا دیا ہے۔

غزنی کے دارالحکومت اور ضلع شلگر کے مضافات میں پکتیکا مرکزی شاہراہ گزشتہ گیارہ دن سے بند ہے۔ اس دوران دشمن نے کئی بار یہ شاہراہ کھولنے کی کوشش کی، تاہم مجاہدین نے ہر بار انہیں پسپا کر دیا۔ ان جھڑپوں میں دشمن کی متعدد فوجی گاڑیاں اور ٹینک تباہ ہو گئیں۔ جب کہ سو سے زائد فوجی، پولیس اور لیویز اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔

صوبہ نیمروز کے ضلع خاشرود کے قریب غورغوری علاقے میں دشمن کے دو ٹینک تباہ، آٹھ اہل کار موقع پر ہلاک، جب کہ پولیس سربراہ نور آغا اور اس کے معاون لالی سمیت 10 اہل کار زخمی ہوئے۔

صوبہ اروزگان کے ضلع خاص اروزگان میں سخی پہاڑی کا اہم فوجی اڈہ، گرم آب سر کا فوجی مرکز اور دو چوکیاں فتح کوئیں۔ اس جھڑپ میں 20 فوجی ہلاک، جب کہ 12 سپاہی گرفتار ہوئے۔

صوبہ لوگر کے ضلع چرخ کے علاقے خواجہ اسماعیل میں مجاہدین نے 3 چوکیاں فتح کر لیں۔

صوبہ بادغیس کے ضلع قادس میں کابل انتظامیہ کے 15 کمانڈروں سمیت 500 فوجی و پولیس اور لیویز اہل کار مجاہدین کی صف میں شامل ہو گئے۔

اسی صوبے کے علاقے خردک شرقی میں دو بڑے قبائل ’’چندوس اور ذاحکیم‘‘ کے دس ہزار خاندانوں نے امارت اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ ان لوگوں میں کابل انتظامیہ کے ملازمین، فوجی، پولیس اہل اور 15 اہم کمانڈروں سمیت 500 اہل کار شامل تھے۔ امارت اسلامیہ بادغیس کے رہنماؤں نے ان کا خیرمقدم کیا۔ انہیں خوش آمدید کہا اور ان سب کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ امارت اسلامیہ کے رہنماؤں نے انہیں عام معافی دیتے ہوئے مجاہدین کو ہدایت کی کہ ان کے جان، مال اور عزت کی حفاظت کریں۔

مجاہدین نے صوبہ پکتیکا کے ضلع وازی خوا کے بازار میں اس ضلع کے لیے کٹھ پتلی حکومت کے گورنر عبدالحی کو تین محافظین سمیت ہلاک کر دیا۔

دشمن نے حال ہی میں ظلم اور سربریت کا سلسلہ بڑھا دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں مساجد، مدارس، اسکولز، کلینکس اور بازاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مختلف بہانوں سے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مجاہدین اپنے عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنانے، مظلوم عوام کا بدلہ لینے اور اسلام و ملک کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

مجاہدین حملے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ دشمن کے زیرکنٹرول علاقے فتح کر کے مظلوم عوام کو حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے مظالم سے نجات دلا رہے ہیں۔ امن قائم کر کے لوگوں کو زراعت و صنعت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ دینی اور جدید تعلیمی ادارے قائم کر رہے ہیں۔ تمام ممکنہ دستیاب وسائل کے ساتھ عوام کو ضروری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

مجاہدین کی تازہ ترین فتوحات سے دشمن بلبلا اٹھا ہے۔  قابض فوج اور کابل حکومت نے کٹھ پتلی فوج کو حوصلہ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے، لیکن مجاہدین کے حملوں کے مقابلے میں وہ ثابت قدم نہیں رہ سکے۔ ہر روز مختلف حصوں میں مجاہدین دشمن کی چوکیاں اور فوجی اڈے فتح کر رہے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*