الخندق آپریشن، اعلی آفسروں سمیت 16 ہلاک و زخمی

الخندق جہادی آپریشن کے سلسلے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے غزنی، ننگرہار اور خوست صوبوں میں اعلی عہدیداروں اور کٹھ پتلی فوجوں کو نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب صوبہ غزنی ضلع شلگر کے مرکز کے قریب ڈسٹرکٹ پولیس چیف کمانڈر سیدانور حکمت عملی کے تحت ہونے والے دھماکہ میں شدید زخمی ہوا،جبکہ پانچ روز قبل ان کے خصوصی محافظ حشمت خان کو مجاہدین نے غزنی شہر میں گرفتار کرلیا۔

صوبہ ننگرہار سے آمدہ رپورٹ کے مطابق رات کے وقت مجاہدین نے صدر مقام جلال آباد شہر کے قریب امریکی فوجی مرکز پر میزائل داغے، جو اہداف پر گر کر دشمن کے لیے جانی و مالی نقصانات کے سبب بنے۔

ذرائع کے مطابق اتوار کےروز صبح کے وقت جلال آباد شہر کے بیس اکمالاتی کے علاقے میں بم دھماکہ سے فوجی رینجر گاڑی تباہ اور اس میں سوار دواہلکار قتل ہوئے۔

دوسری جانب اتوا رکےروز صبح کے وقت ضلع سرخ رود کے فتح آباد کے علاقے میں حکمت عملی کے تحت ہونے والے دھماکہ نے دو فوجیوں کی جان لی۔

دریں اثناء شاہ ناصرآغار کے علاقے میں بم دھماکہ سے فوجی رینجر گاڑی تباہ اور اس میں سوار تین اہلکار لقمہ اجل بن گئے اور مجاہدین نے ایک کلاشنکوف بھی غنیمت کرلی۔

اسی طرح سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب عشاء کے وقت ضلع غنی خیل کے مربوطہ علاقے میں مجاہدین نے جنگجوؤں کی چوکی پر حملہ کیا،جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اتوار کےروز دوپہر کے وقت صوبہ خوست ضلع باک کے انارکلی کے علاقے میں پولیس چوکی میں مجاہدین کی نصب شدہ بم سے ہونے والے دھماکہ سے اینٹلی جنس چیف، پولیس آفسر اور ایک مخبر شدید زخمی ہوئے۔

نیز اتوار کےروز شام کے وقت مذکورہ ضلع کے بازار کے قریب کٹھ پتلی فوجوں پر ہونے والے  بم دھماکہ سے ایک فوجی زخمی ہوا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*