امارت اسلامیہ ترقی کرتے ہوئے

آج کی بات

 

امارت اسلامیہ اللہ تعالی کی مدد اور عوامی حمایت سے جدوجہد کر رہی ہے۔ دشمن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کے نصف سے زائد رقبے پر امارت اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔ اگر الہی مدد عوام کی حمایت شامل نہ ہوتی تو خالی ہاتھوں سپرپاور کا مقابلہ کہاں ممکن تھا۔امارت اسلامیہ آئے روز سیاسی اور عسکری میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے۔

13مئی کو صوبہ بادغیس کے ضلع قادس کے علاقے خردک شرقی میں آباد دو بڑے قبائل ’چندوس اور ذاحکیم‘ نے امارت اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ مذکورہ قبائل دس ہزار خاندانوں پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کابل حکومت میں شامل اپنے تمام افراد کو نکال دیا ہے۔ جن میں 15 کمانڈروں سمیت 500 فوجی، پولیس اور لیویز اہل کار شامل تھے۔ انہوں نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار پھینک کر امارت اسلامیہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا ہے۔ مذکورہ قبائل نے حقیقت کا ادراک کیا اور امارت اسلامیہ میں شامل ہو گئے۔ ان کے اس اقدام سے امارت اسلامیہ کی عمل داری مزید علاقوں تک پھیل گئی ہے۔ عوام کو شرعی قوانین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آخری دم تک امارت اسلامیہ کی قیادت میں حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔ دین دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گے۔ امارت اسلامیہ نے ان قبائل کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ انہیں مبارک باد دی اور کہا کہ انہوں نے بروقت اچھا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

اسی طرح ہر ماہ کابل انتظامیہ میں شامل سیکڑوں فوجی اور سول اہل کار حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ہتھیاروں سمیت امارت اسلامیہ کی صف میں شامل ہوتے ہیں۔ اپریل میں 402 فوجیوں، پولیس اور لیویز اہل کاروں اور کمانڈروں نے امارت اسلامیہ کے سامنے سرنڈر ہونے کا اعلان کیا۔ امارت اسلامیہ نے انہیں جان و مال کی حفاظت کی ضمانت دی۔ امارت اسلامیہ کے زیراثر علاقوں میں مکمل امن اور انصاف قائم ہے۔ لوگ ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک آزادانہ آمد و رفت کر سکتے ہیں۔ خرید و فروخت کے معاملات بڑھ رہے ہیں۔ زراعت ترقی کی جانب گامزن ہے۔ کرپشن کا کوئی تصور نہیں ہے۔ امارت اسلامیہ نے اسلام کی روشنی میں عوامی ضرورتیات کے حوالے سے مناسب پالیسیاں مرتب کی ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔

امارت اسلامیہ جس طرح لوگوں پر حکومت کرتی اور افغانستان کے نصف سے زائد رقبے پر اس کی عمل داری قائم ہے، اسی طرح عوام کے دلوں پر بھی راج کرتی ہے۔ لوگ امارت اسلامیہ سے خوش ہیں۔ اس کی پالیسیوں اور طرزعمل سے مطمئن ہیں۔ مختلف علاقوں میں لوگ وقتا فوقتا امارت اسلامیہ کی حمایت میں سفید پرچم لہراتے اور جان و مال سے امارت کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*