مسلسل فتوحات اور شکست خورده دشمن

آج کی بات

 

گزشتہ روز مجاہدین نے صوبہ غزنی میں دو اہم اضلاع جغتو اور دہ یک فتح کر لیے ہیں۔ پچھلے ایک ماہ سے جاری الخندق آپریشن کے تحت تقریبا یہ دس اضلاع ہیں، جن پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ بہت مختصر وقت میں دس اضلاع سے کٹھ پتلی فورسز کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ ان میں صوبہ فراہ کے ضلع اناردرہ، غزنی کا خواجہ عمری، قندوز کا قلعہ زال، بدخشاں کا کوہستان، بغلان کے دو اضلاد تالا اور برفک، فاریاب کا بلچراغ، بادغیس کا درہ بوم، دائی کنڈی کا اجرستان اور دیگر اضلاع شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مجاہدین نے درجنوں اضلاع کا محاصرہ کر رکھا ہے،۔ایک ہفتہ قبل مجاہدین نے صوبہ فراہ فتح کر کے دشمن کو وطیرہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔

مجاہدین نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران آپریشن الخندق کے تحت ایک ہزار سے زائد قابض اور کٹھ پتلی اہل کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ جب کہ کم و بیش اتنی تعداد میں اہل کاروں نے ہتھیار ڈال کر مجاہدین کے سامنے سرنڈر ہونے کا اعلان کیا ہے۔ جب سے مجاہدین نے حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فورسز کے خلاف الخندق کا اعلان کیا ہے، تب سے انہوں نے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کی ہے۔ جس کے باعث قابض اور کٹھ پتلی دشمن نہایت خوف زدہ اور پریشان ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں نے بتایا کہ ہم اس وقت پہاڑوں سے سر ٹکرا رہے ہیں۔ مجاہدین نہایت منظم انداز سے بلند حوصلوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ مجاہدین نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے جنگ کو شہری علاقوں سے دور دراز وسطی اور دیہاتی علاقوں تک پھیلا دیا ہے۔ تاکہ دشمن کی قوت منتشر کر کے اُس کی ہم آہنگی ختم کر دی جائے۔ اُسے باہم بداعتماد کیا جائے۔ مجاہدین نے شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے مؤثر حکمت عملی طے کی ہے۔ حال ہی میں کابل کے شہریوں کو اطلاع دی گئی ہے کہ وہ دشمن کے عسکری مقامات سے دور رہیں، کیوں کہ مجاہدین کسی بھی وقت دشمن کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے مجاہدین کے زیرکنٹرول علاقے میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک ماہ کے دوران 11 اضلاع اور سیکڑوں چوکیاں فتح ہوئی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں ہتھیار، گولہ بارود اور گاڑیاں غنیمت میں ملی ہیں۔اسی حکمت عملی کی بنا پر مجاہدین کا جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب کہ ان کے حوصلے بہت بلند ہیں۔

اب مجاہدین کے جارحانہ حملوں میں شدت آئی ہے۔ اسی وجہ سے درجنوں اہل کار روزانہ لقمہ اجل بنتے ہیں۔ تاہم کٹھ پتلی حکومت حواس کھو بیٹھی ہے۔ اس حوالے سے اس نے اب تک کوئی غور و فکر نہیں کیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اہل کار روزانہ کی بنیاد کیوں ہلاک ہو رہے ہیں؟ اسی وجہ سے کٹھ پتلی فورسز کے اہل کار اب خود اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ امارت اسلامیہ کی جانب سے عام معافی کے اعلان کا فائدہ اٹھائیں۔ اب انہیں احساس ہو رہا ہے کہ آخر کب تک اور کس مقصد کے لیے اپنی قیمتی جانیں گنوا رہے ہیں۔ کابل کٹھ پتلی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکے۔ قابض قوتوں کے لیے وطن عزیز کو قربان نہ کریں۔ سپاہی کے نام پر ان نوجوانوں کو بطور ایندھن استعمال نہ کریں۔ ان کی جہالت اور مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ اس ناکام جنگ سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*