جرنیلوں کا تبادلہ فتح کا ضامن نہیں

آج کی بات

 

امریکی میڈیا نے خبر شائع کی کہ پینٹاگون نے افغانستان میں اپنی فوج کے جنرل کمانڈر کو تبدیل کر دیا ہے۔ جنرل نیکولسن کی جگہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں شریک جنرل اسکاٹ میلر کو متعین کیا جائے گا۔ یہ ٹرمپ کا پہلا اور 17 سالہ جارحیت کے 9واں کمانڈر ہوگا، جو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حملہ آوروں نے کامیابی کے لیے نہ صرف کمانڈرز تبدیل کرنے کے ناکام تجربے کیے، بلکہ جارحیت کے آغاز سے اب تک مختلف پالیسیوں اور حکمت عملیوں کے تجربات بھی کیے۔ تاہم 17 برسوں کے دوران بھاری اخراجات کے باوجود کامیابی کی جھلک تک نہیں دیکھ سکے۔

اس سے قبل مائک کرسٹل، جان ایلن، ڈیوڈ پیٹریاس، نیکلسن اور دیگر کمانڈرز تبدیل کرنے کا تجربہ بھی ناکام رہا ہے۔ وہ سب ہزیمت اٹھا کر واپس چلے گئے۔ البتہ افغان عوام کو تباہی اور قتل عام کے الم ناک واقعات اور سانحات سے دوچار کیا گیا۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے نئے جنرل کی تعیناتی کی خبر اس وقت دی، جب  کہ امریکی فوج کے ترجمان نے حال ہی میں کہا کہ رواں سال کے اپریل میں امریکی فوج نے افغانستان میں 562 بم برسائے تھے۔ یہ ماضی کی نسبت پانچ گنا زیادہ ہے۔ پینٹاگون کے مطابق مارچ میں بموں کی تعداد 223 تھی۔ گزشتہ سال اپریل میں یہ تعداد 100 تھی۔ ان تمام مظالم کے باوجود اسلام اور حریت کے جذبے سے سرشار مجاہدین نے اسی ماہ صوبہ فراہ کے علاوہ مختلف صوبوں میں 11 اضلاع فتح کر کے جارحیت پسندوں اور کٹھ پتلی فورسز کو بھی دھچکہ لگایا۔ سکیورٹی فورسز کے سیکڑوں اہل کار ہلاک کیے گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں فوجی گاڑیاں، ہتھیار اور جنگی ساز وسامان غنیمت میں حاصل کیا گیا۔

نئے جنرل اسکاٹ میلر کو اس وقت افغان عوام کے قتل عام کے لیے بھیجا جا رہا ہے کہ مجاہد عوام نے استعماری قوتوں کی تمام پالیسیاں ناکام بنا دی ہیں۔ ممکن ہے نیا کمانڈر بھی سابقہ ناکام تجربوں کا اعادہ کریں۔ تاہم ہمارا یقین ہے سابق کمانڈروں کی طرح یہ کمانڈر بھی شکست کی شرمندگی سے دوچار ہو کر جائیں گے۔ امریا کی روبہ زوال جارحانہ فوجی، سیاسی اور اقتصادی صورت حال اور بین الاقوامی ساکھ کو نہیں بچایا جا سکتا۔ نئے جنرل کی تعیناتی سے موجودہ صورت حال مزید خراب ہو کر رہ جائے گی۔ نئے جنرل اسکاٹ میلر کی کامیابی اور دوراندیشی یہ ہوگی کہ وہ زمینی حقائق کی روشنی میں کھل کر یا خفیہ شکست کا اعلان کریں۔ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے کا فیصلہ کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*