آپریشن الخندق نے دشمن کو گھیر لیا

آج کی بات

 

دشمن الخندق آپریشن کے آغاز سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ اسے بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ کٹھ پتلی فوج کے حوصلے پست ہیں۔ جب کہ مجاہدین نے اسلام اور وطن کے دفاع کے لیے حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ الخندق آپریشن کی ابتداء سے بدخشان سے ہرات،قندھار سے ننگرہار اور اروزگان سے لوگر تک جہادی کارروائیاں جاری ہیں۔ خاص طور پر شمالی اور وسطی علاقوں کے بارہ اضلاع فتح کیے جا چکے ہیں۔ بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی مجاہدین کو غنیمت  میں ملا ہے۔

مجاہدین نے الخندق آپریشن کے تحت صوبہ فراہ فتح کر لیا ہے۔ مختلف اقسام کے ہتھیار، بکتر بند گاڑیاں، ٹینک اور فوجی گاڑیاں غنیمت میں حاصل کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کی جا چکی ہیں۔ تاہم عام شہریوں کی حفاظت اور ایک خاص حکمت عملی کے تحت مجاہدین واپس اپنے مورچوں کی طرف آ گئے ہیں۔ دشمن نے فراہ کی شکست چھپانے کی کوشش کی اور مجاہدین کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ صوبہ فراہ کی فتح نے دشمن کو فوجی، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

دشمن نے اعتراف کیا ہے کہ مجاہدین نے فاریاب، بادغیس، فراہ، غور، سرپل، قندوز، بغلان، بدخشان اور غزنی کے صوبائی دارالحکومتوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ مجاہدین کسی بھی وقت مذکورہ اور دیگر صوبوں کو فتح کرنے کے لیے بڑے حملے کر سکتے ہیں۔ تاہم جہادی حکمت عملی اور عوام کے تحفظ کی خاطر مناسب موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔ الخندق آپریشن کے تحت مؤثر اور کامیاب حملوں نے حملہ آوروں اور کابل حکومت کو پریشان کر دیا ہے۔ دشمن نے آپریشن الخندق کے سدباب کے لیے مختلف صوبوں میں گورنروں اور کمانڈروں کو تبدیل کیا ہے۔ حتی تک کہ قابض فوج نے بھی افغانستان میں کمانڈر تبدیل کر دیا ہے۔ آپریشن الخندق نے دشمن کی صفوں میں دراڑ پیدا کر کے اسے باہم بداعتماد کر دیا ہے۔ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ دشمن جتنے بھی کمانڈر تبدیل کر لے، حکمت عملی وضع کر لے، بہرحال شکست اس کا مقدر ہے۔ دشمن کو مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اسے فوری طور پر افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*