کابل فوج عوامی املاک لُوٹتی ہے

آج کی بات

 

تقریبا ایک ہفتے سے تسلسل کے ساتھ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ کابل کٹھ پتلی حکومت کی اسلام اور ملک دشمن فوج مختلف صوبوں میں ایک منظم منصوبے کے تحت عوام کے مکانات، دوکانیں اور جائیداد لوٹنے، جلانے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جب قابض امریکی فوج کی تربیت یافتہ اجرتی فوج کو کسی علاقے میں بدترین شکست کا سامنا ہوتا ہے یا مجاہدین اس کے فوجی اڈے اور محفوظ ٹھکانے فتح کر لیتے ہیں یا اس کے درجنوں اہل کار قتل ہو جاتے ہیں تو پھر وہ راہ فرار اختیار کرتے وقت رہائشی علاقوں پر راکٹ اور مارٹر گولوں سے حملے کرتی ہے۔ مارکیٹ اور دکانیں لوٹ لی جاتی ہیں۔ کابل فوج عوامی املاک کو آگ لگا دیتی ہے۔ عام لوگوں کے مکانات اور جھونپڑیاں بارودی سرنگوں کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے مجاہدین کے ساتھ تعاون کیوں کیا یا وہ ان کے گھروں میں کیوں رہے تھے؟

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صوبہ بغلان کے ضلع تالاوبرفک، ننگرہار کے غنی خیل، لوگر کے ضلع محمدآغا کے مضافات، اسی طرح ہلمند، قندھار، غزنی اور دیگر صوبوں کے مختلف علاقوں میں درجنوں شہریوں کے گھروں اور دکانوں سے قیمتی اشیاء لوٹ کر انہیں جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ سوویت یونین کی یلغار اور کمیونسٹ دور میں بھی گلم جم یا جبار ملیشیا کے نے ایسے جرائم کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ کسی علاقے پر حملہ کرنے پر اُسے شکست کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ راہ فرار اختیار کرتے وقت عوام کے گھروں اور دکانوں سے قیمتی اشیاء لوٹ کر لے جاتے۔ جو چیزیں لوٹنے سے بچ جاتیں، انہیں آگ لگا دیتے تھے۔علاوہ ازیں رہائشی علاقوں پر بمباری کر کے انہیں تباہ کر دیا جاتا۔

اگر امریکی اور کٹھ پتلی فوج سمجھتی ہے کہ وہ کمیونسٹوں کا ناکام تجربے دہرا کر کامیابی حاصل کرلے گی تو یہ اس کی بھول ہے۔ عوام کے گھروں اور دکانوں سے قیمتی اشیاء لوٹنے، ان کی جائیدادیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے مکروہ عمل سے عوام کے دلوں سے مجاہدین کی محبت نکالنے اور ان کے عزائم کمزور کرنے کی پالیسی ناکام ثابت ہو چکی ہے۔ وہ ان ہتھکنڈوں سے ہرگز کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ جس طرح گلم جم ملیشیا ذلیل و خوار ہوئے، اسی طرح کٹھ پتلی فورسز کو مجاہدین کی جدوجہد کے مقابلے میں شدید عوامی نفرت کا سامنا رہے گا۔ عوام کی حمایت مجاہدین کو بدستور حاصل رہے گی۔

اگر اجرتی فورسز نے ان جرائم کا سلسلہ جاری رکھا اور شکست کا بدلہ عوام سے لینے کی کوشش جاری رہی تو وہ بھی یاد رکھیں کہ کابل حکومت کے اہم ارکان اور امریکی غلاموں کی جائیدادیں،املاک اور ہر قسم کے وسائل مجاہدین کے زیرکنٹرول علاقوں میں موجود ہیں۔ ان کا کیا خیال ہے کہ مجاہدین اپنی قوم کے دفاع اور حفاظت کے لیے اس طرح کے اقدام پر مجبور نہیں ہوں گے؟! وہ امریکی غلاموں اور اجرتی قاتلوں کی املاک اور جائیداد کے بارے میں کوئی مناسب فیصلہ کرنے کے لیے غور کر رہے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*