کیا مسلم یار کا خاندان بھی مجاہد ہے؟

آج کی بات

 

گزشتہ روز مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع چپرہار میں قابض اور افغان فوج نے مشترکہ آپریشن کے دوران کم سے کم 20 افراد کو نشانہ بنایا۔ کہا جاتا کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد سینیٹ کے چیئرمین فضل ہادی مسلم یار کے خاندان کے لوگ اور رشتہ دار تھے۔ مسلم یار کے دفتر کے ترجمان ضیاء الرحمن ضیاء نے میڈیا کو بتایا کہ ’جاں بحق افراد میں مقامی پولیس کا کمانڈر زرور خان بھی شامل ہے، جس کا تعلق مسلم یار کے خاندان سے ہے۔ اس کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کے چچا، دو چچا زاد بھائی اور ان کے والد کے چچا زاد اور قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔ مجموعی طور پر17 افراد کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 9 جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔

ان متأثرین کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اعلی سرکاری حکام کے رشتہ دار ہیں اور ان پر دہشت گردوں کا لیبل لگنے سے قبل اس واقعے کی خبر میڈیا پر شائع ہوئی۔ اگر یہ لوگ اعلی سرکاری حکام کے رشتہ دار نہ ہوتے، بلکہ عام دیہاتی لوگ ہوتے تو پھر اس واقعے کی خبر اس طرح شائع ہوتی کہ ’گزشتہ رات سرکاری فوج نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران ننگرہار کے ضلع چپرہار میں 9 دہشت گردوں کو ہلاک اور 8 کو زخمی کر دیا۔‘ پھر اس واقعے سے متعلق کون پوچھتا؟ کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ ایسے واقعات کی تردید کر سکے۔ کیوں کہ اسپیشل فوج کو فوجی آپریشن کے احکامات کابل سے نہیں، بلکہ براہ راست پینٹاگون سے دیے جاتے ہیں۔ کابل حکومت نے ملک کی سلامتی کے معاہدے پر دستخط کر کے امریکی فوج کو تمام جرائم کے ارتکاب کے لیے سند جواز فراہم کر رکھی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مشترکہ فوجی کارروائی میں عام لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، بلکہ قابض فوج کی ہدایات کے مطابق افغان اجرتی فوج کے اہل کار ہر رات نہتے شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے بغیر اجازت نہتے شہریوں کے گھروں میں زبردستی گھس جاتے ہیں۔ گھر کے دروازے بموں سے اڑاتے ہیں۔ دہشت اور خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ تلاشی کی آڑ میں لوٹ مار کرتے ہیں۔ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں ہر قسم کی اذیت دی جاتی ہے۔ حراست میں لیا جاتا ہے۔ چوں کہ میڈیا ان کے زیر اثر ہے، اس لیے ان پر دہشت گردوں کا لیبل لگا کر تمام جرائم سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ مظلوم افغان عوام کی آواز اللہ کے سوا کوئی نہیں سنتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مجاہدین اب ایسے نہیں ہیں کہ وہ شکست خوردہ حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فوج کے چھاپوں کے دوران آرام سے بیٹھے ہوں۔ جب بھی دشمن کی جانب سے چھاپہ مارنے کی کوشش کی جاتی ہے تو مجاہدین بھرپور اور منہ توڑ جواب دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہلمند کے علاقے ’نہرسراج‘ میں چھاپے کے دوران مجاہدین نے ہیلی کاپٹر مار گرایا اور دشمن کا چھاپہ ناکام بنا کر پسپائی پر مجبور کر دیا۔ امارت اسلامیہاب وہ طاقت ہے کہ کٹھ پتلی فوج ان کے چھاپوں سے دن رات خوف زدہ رہتی ہے۔ مجاہدین ہر رات دشمن کی چوکیوں پر چھاپے مارتے اور درجنوں چوکیاں فتح کرتے ہیں۔ مجاہدین کے جارحانہ حملوں نے دشمن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ صرف غریب اور نہتے عوام ہیں، جو قابض فوج کی ہدایات کے تحت افغان اجرتی فوج کے مظالم کا نشانہ بنتے ہیں۔ ان پر ہر قسم کے مظالم کے ڈھائے جاتے ہیں، تاکہ انہیں امریکی غلامی اور جارحیت قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس غرض سے رات کے چھاپوں، وحشیانہ بمباریوں اور حملوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ افغان اجرتی فوج اپنے آقا کے ہر حکم کی تکمیل کے لیے الرٹ رہتی ہے، اگرچہ انہیں بدلے میں گدھوں اور کتوں کا گوشت کھلایا جاتا ہے۔

ننگرہار میں مسلم یار کے خاندان کے افراد کو نشانہ بنانے سے لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ ان کی تمام کارروائیاں اسی طرح ہیں۔ کیا ان کے تمام چھاپوں ان کے دشمن ’مجاہدین‘ کو نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کیا ننگرہار کے واقعے کے متأثرین بھی امارت کے اہل کار تھے، جو قابض اور اجرتی فوج کی مشترکہ کارروائی میں نشانہ بن گئے ہیں؟!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*