الخندق کی کامیابی اور دشمن کا پروپیگنڈا

آج کی بات

 

الخندق آپریشن کے تحت کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں قابض اور کٹھ پتلی فورسز پر مجاہدین کے جارحانہ حملوں نے اسے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مجاہدین کے حملوں میں دشمن کو جانی، مالی اور نفسیاتی نقصان کا سامنا ہے۔ دشمن مجاہدین کے ساتھ براہ راست مقابلے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اس لیے اجرتی اہل کار رہائشی علاقوں اور بازاروں پر شیلنگ اور گولہ باری کرتے ہیں۔ جس پر بعدازاں زرخرید میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اس کارروائی میں اتنے مجاہدین شہید اور زخمی ہوئے۔

الخندق آپریشن کے آغاز سے اب تک بارہ اضلاع فتح کیے جا چکے ہیں۔ جن میں قلعہ زال، کوہستان، بلچراغ ، تالاوبرفک ، جغتو، دہ یک، اجرستان، درہ بوم ، چورہ اور دشت قلعہ شامل ہیں۔ جب کہ درجنوں اضلاع کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں صوبہ فراہ کا دارالحکومت بھی فتح ہو گیا ہے۔ وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور فوجی سامان بھی غنیمت میں ملا ہے۔جب کہ مجاہدین نے صوبہ غزنی اور پکتیکا کی مرکزی شاہراہ گزشتہ ایک ماہ سے بند کر کے دشمن کا راستہ روک رکھا ہے اور اس اہم شاہراہ پر مجاہدین کا مکمل کنٹرول ہے۔

اسی طرح حالیہ چند دنوں کے دوران فدائی حملوں نے بھی دشمن کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ مثلا صوبہ لوگر میں فدائی مجاہدین کی کامیاب کارروائی کے نتیجے میں دشمن کو بھاری دھچکہ لگا۔ اس کے علاوہ خدر کمپاؤنڈ پر مجاہدین نے راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔

الخندق آپریشن کے تحت بگرام، قندھار، شین ڈنڈ اور جلال آباد کے ائیرپورٹ میں قابض افواج کو نشانہ بنایا اور ان پر گولہ باری کی اور مزائل داغے۔

دشمن نے لوگوں کی توجہ کسی اور جانب مبذول کرانے اور شکست خوردہ فورسز کے حوصلے بلند کرنے کے لیے درجنوں مجاہدین کی شہادت کا پروپیگنڈا کیا۔ دشمن نے 24 مئی کو ہلمند کے ضلع موسی قلعہ میں دو شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 5 شہری شہید اور 8 زخمی ہوئے۔ تاہم دشمن نے پروپیگنڈا کیا کہ اس نے مجاہدین کے کمانڈروں کے اہم اجلاس کو نشانہ بنایا ہے، جس میں پچاس تک مجاہدین رہنما مارے گئے۔

دشمن کے اس پروپیگنڈے کو ملکی اور غیرملکی میڈیا نے خوب کوریج دی ہے۔ حتی کہ واشنگٹن پوسٹ نے اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ دو ہفتوں کے دوران امریکی فوجیوں نے 70 مجاہدین رہنماؤں کو میڈیا کی دنیا میں قتل کر ڈالا۔ واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ شائع کی کہ امریکی فورسز نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 70 مجاہدین رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس خبر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ضلع موسی قلعہ میں امریکی فوج نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کر کے مجاہدین کے رہنماؤں کے جاری اہم اجلاس کو نشانہ بنایا۔ تاہم امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس خبر کو مسترد کر دیا۔ البتہ زرخرید میڈیا اب تک وہی پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ اس کارروائی میں اہم مجاہدین رہنما مارے گئے ہیں۔

جنگ صرف پروپیگنڈے سے نہیں جاتی جا سکتی۔ اگر صرف جھوٹے دعوؤں اور پروپیگنڈوں سے کچھ حاصل کیا جا سکتا تو قابض افواج کے خلاف مزاحمت اس نہج پر نہ ہوتی۔ کیوں کہ دشمن نے جارحیت کو جواز بخشنے اور مجاہدین کو بدنام کرنے کے لیے اتنا پروپیگنڈا کیا کہ لوگ اس کو سن سن کر تھک گئے۔ ان تمام تر کوششوں کے باوجود قابض اور کٹھ پتلی فورسز کے خلاف مزاحمت میں شدت آئی ہے۔ دشمن کے زیرکنٹرول علاقوں کا دائرہ محدود ہوتا جا رہا ہے۔ جب کہ مجاہدین کی عمل داری میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر الخندق آپریشن کے بعد بہت سے علاقوں سے دشمن کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ مجاہدین کی عمل داری مضبوط ہو گئی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*