کابل میں مذہبی علماء کے نام سےمنعقدہ تقریب کے ردعمل پر ترجمان کا وضاحتی بیان

اسلامی معاشرے میں علماءکرام اور مشائخ عظام اعلی مقام کے حامل ہیں اور ان کی عظیم ذمہ داری ہے، جیسا کہ ماضی میں امتوں کو پیغمبرعلیہ السلام کو انسانی معاشروں کی رہبری کی ذمہ داری سونپی گئی تھی،  خاتم النبیین ﷺ کے بعد  یہ ذمہ داری برحق علماء کرام کو میراث میں ملی ہے، اسی وجہ سے تاریخ کے مختلف ادوار میں دینی علماء کرام  امن و امان اور سربلندی کی خاطر امت کےجہاد، علم، ارشاد، اصلاح ، دعوت وغیرہ کےتمام میدانوں میں سرفہرست رہے اور کھٹن حالات میں امت کی کشتی کو نجات دلوا دی ہے۔

ہمارے ملک اور خطے میں اجنبی حملوں اور  آزمائشوں کے  تمام مراحل میں علماء کرام ہمیشہ اپنے مؤمن عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے  ، انہوں نے  اپنے معاشرے کے دینی اقدار، متدین فکر اور مایہ ناز ثقافت اور اسلامی تشخص سے دفاع کی ہے اور استعمار کے تمام سازشوں کو ناکارہ بنا دیے ہیں۔

اگر ہم حالیہ صدیوں کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کریں ، ہمارے ملک اور ہمسائیہ ممالک میں انگریز استعمار کے آمد کے موقع پر افغانستان میں ملامشک عالم، حضرت نورالمشائخ مجددی، مولینا نجم الدین اخندزادہ وغیرہ علماء کرام  کے مانند مزاحمت کار کفری جارحیت کے ساتھ مقابلہ میں مصروف تھے۔ بھارت اور موجودہ پاکستان میں شیخ الہندمولینا محمودالحسن صاحب، مولینا عبیداللہ سندھی صاحب اور ابریشم تحریک کے دیگر معروف مزاحمت کاروں کی طرح مجاہد علماء کرام نے انگریز استعمار کے خلاف جہاد اور مزاحمت میں مصروف تھے اور اس راہ میں قیدوبند، ہجرت اور مختلف النوع صعوبیں برداشت کیں۔

اسی طرح افغانستان پر روسی جارحیت کے دوران علماء کرام نے اپنی مؤمن ملت کی نجات اور کمیونسٹی کفر  کو ماربھگانے کی خاطر بہت قربانیاں دیں اور افغانستان پر امریکی قبضے کے خلاف جہاد  جو ملک کے سینکڑوں علماء کرام کے فتوی سے شروع ہوا، اس میں بھی علماء کرام اور طالبان کا کردار نمایاں ہے، جو اپنی مؤمن اور حریت پسند عوام کی دفاع کی خاطر جہاد کررہا ہے اور اسلامی نظام کے قیام کی حاکمیت کی آرزو کو  وفادار ہیں۔

یہ کہ علماء کرام اسلامی معاشروں کی دفاع میں سب سے اہم اور بنیادی کردار کے حامل ہیں، اسلام کے دشمن بھی اسی نکتے کو متوجہ ہے،اسی وجہ سے ہمیشہ کوشش کررہی ہے کہ علماءکرام سے اپنی جارحانہ سازشوں کو انجام دینے کی راہ میں فائدہ اٹھائے۔

یہ کہ امریکہ کے خلاف جہاد نے گذشتہ سترہ سالوں کے دوران افغان عوام کی بےمثال  قربانیوں کی برکت سے استعماری افواج کو اس پر آمادہ کیا کہ مزید جنگ میں شکست کو تسلیم کریں اور ملک سے فرار کی راہ پر  آمادہ ہوجائے، تو اسی کامیابی سے مایوس ہونے والے غاصبوں نے اب دیگر سازشوں کو بروئےکار لایا ہے، تاکہ افغان مؤمن اور حریت پسند عوام کی استقلال کی صدا کو خاموش اور بےدریغ قربانیوں کے ثمرات کو ضائع کریں۔

امریکی غاصب افواج کے جنرل کمانڈر جنرل جان نیکولسن نے 18/ مارچ 2018ء کو کابل میں ایک کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ کا منصوبہ ہے کہ رواں سال میں طالبان پر مختلف النوع دباؤ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ ہم طالبان پر فوجی، سیاسی، معاشرتی اور حتی مذہبی ڈباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، مذہبی دباؤ کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان اور چند دیگر ممالک کے علماء کے نام سے فرمائشی   تقریبات  کا انعقاد کریں اور ان تقریبات میں طالبان کے خلاف فتوی جاری کرتے ہوئے  سترہ سالہ جہاد کے بعد ان کی مزاحمت کے جواز کو مذہبی پہلو سے چیلنج کریں۔

اسی سلسلے میں امریکی منصوبے کی رو سے علماء کرام کا پہلا  اجلاس 11/ مئی 2018ء کو انڈونیشیا کے بوگور شہر میں منعقد کیا گیا اور آج ایک ایسا نمائشی اجلاس کابل میں منعقد کروایا گیا۔

علماء کے عنوان سے دینی علماء کے اس منصوبے کو امارت اسلامیہ مکمل امریکی اسلام دشمن منصوبہ سمجھتی ہے، جس کی منصوبہ بندی، فنڈنگ اور عملی ہونے کے تمام امور امریکی غاصبوں کی جانب سے رہبری ہوتے رہتے ہیں،ایسے اجلاسوں کےذریعے امریکہ اپنی ظالمانہ فوجی جارحیت کو  جوزار ڈھونڈہوتے اسے دینی رنگ دیتے ہیں ،تاکہ اس کے خلاف افغان مؤمن عوام کے شروع ہونے والے جہاد کو مردود ثابت کریں۔

ہمارا اس پر ایمان اور یقین ہے کہ حق حق ہے  اور کسی کے پاس اسے باطل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ ہمارا برحق جہاد امارت اسلامیہ کے مکمل حاکمیت کے دوران سینکڑوں علماء کرام کے شرعی فتوی کے بنیاد اور ملت کی حمایت سے شروع ہوا اور اب منزل مقصود کو پہنچنے والا ہے۔

امریکی جس طرح فوجی، سیاسی اور پروپیگنڈے کی جدوجہد میں ناکامی سے روبرو ہوئے ہیں، تو اللہ تعالی اس کے اس حالیہ سازش کو بھی شکست اور رسوائی سے روبرو کریگا۔اللہ فرماتے ہیں کہ

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ سورة الصف ۸

ترجمہ : "یہ چاہتے ہیں کہ اللہ  کے چراغ کی روشنی کو  اپنی پھونکوں سے بجھادیں حالانکہ اللہ اپنی روشنی کو  پورا کرکے رہے گا خواں کافر ناخوش ہی ہوں "۔

کابل میں آج کے دن علماء کے نام سے فتوی پہلے ہی مرتب کی گئی تھی ۔ وہاں جمع ہونے والے مبلغین کے رائے لینے اور ان سے مشورہ لینے کے بجائے اسٹیج ہی سے ابلاغ  کی گئی ، جو کسی صورت میں شرعی دلیل نہیں بن سکتی۔ اکثریت عوام الناس کو علماء کے نام سے کابل اجلاس میں براجمان کیا گیا تھا، جس میں صرف اجلاس کی کثرت کی کوشش کی گئی تھی۔

اجلاس کے شرکاء کی گفتگو  کا محور یہ تھا کہ گویا رواں جنگ مسلمانوں کے درمیان نزاع ہے اور وہ ان کے درمیان صلح کی کوشش کرتی ہے، ایسی حالت میں کہ موجودہ جہاد امریکی جارحیت کے خلاف شروع ہوا اور استعماری افواج تاحال افغانستان میں پوری قوت کیساتھ موجود ہیں اور افغانوں پر امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی جانب سے نصب شدہ نظام مسلط ہے،  وہ عمل جو ہر استعمار دیگر ممالک میں مداخلت کے نتیجے میں کرتا رہتا ہے۔موجودہ جہاد امریکی محارب کافروں کے خلاف دفاعی جہاد ہے، امریکی صف میں کھڑے  ہونے والے مسلمانوں کیساتھ بھی متعدد شرعی نصوص کی رو سے جہاد فرض سمجھا گیا ہے۔

ہم مذہبی علماء کو بتاتے ہیں کہ برحق جہاد کو ناجائز سمجھتے ہوئے اس حساس موضوع میں اپنے دنیوی اور اخروی عاقبت سے خوفزدہ ہوجائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن دینی علماء نے اپنے علم کی توہین کی ہے اور شیطان کے پیروکاروں کے مددگار ہوئے ہیں،  تو اللہ تعالی نے انہیں دنیا اور آخرت میں شرمندہ کیے ہیں۔  قرآن کریم ہمیں موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک دینی عالم بلعم بن باعوراء کی حکایت سنارہی ہے۔ بلعم بن باعوراء اپنے زمانے کے بڑے دینی عالم اور کرامات کے حامل تھے،جب موسی علیہ السلام بیت المقدس اور شام کو اپنا دینی حاکمیت پھیلانا چاہتا،تاکہ  ان علاقوں کو باطل اور جابر حکمرانوں  سے آزاد کروادے، تو ان علاقوں کے حکمرانوں نے موسی علیہ السلام کے لشکر کو شکشت دینے کی جدوجہد کی، اس دینی عالم کو پیغمبر وقت کے خلاف استعمال کیا گیا، انہوں نے بلعم بن باعوراء کو مال اور شہوت کا لالچ دیکر اس پر آمادہ کرلیا کہ موسی علیہ السلام کے لشکر کو بددعاء دیں، مگر بعد میں اللہ تعالی نے ان کی بدعاء کو دعاء سے بدل دی اور اس باطل کے دام میں گرفتار عالم کو رسوا اور قیامت تک عبرت کا نشان بنایا گیا۔

کابل میں جمع ہونے والے نام نہاد مذہبی علماء کو اس قرآنی حکایت سے عبرت حاصل کرنا چاہیے اور اپنے آپ پر رحم کریں،  امریکہ موجودہ وقت کا عظیم فرعونی طاغوت ہے،جس نے دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کے حقوق کو غصب کر رکھے ہیں  اور مظالم انجام دے رہے ہیں۔ اس طاغوت کیساتھ تعاون عظیم گناہ اور بڑا انحراف ہے،جس سے اللہ تعالی ہمارے مذہبی علماء کرام کو نجات دلادیں۔

آخر میں ایک بار پھر مذہبی علماء کرام سے احترامانہ اپیل کی جاتی ہے کہ دشمن کے اینٹلی جنس تقریبات اور تگ ودو میں شرکت کے بجائے  اپنی عوام اور مجاہدین سے تعاون کریں، تاکہ اللہ تعالی جارحیت کے فتنے کو ختم اور مسلمان عوام کی عزت اور استقلال کو  اعادہ کریں۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

19/ رمضان المبارک 1439 ھ بمطابق 04/ جون 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*