جنرل نیکولسن امریکی عوام کو  حقائق بتادیں

افغانستان میں امریکی افواج کے سپہ سالار جنرل جان نیکولسن  جو افغانستان میں طویل عرصہ فوجی منصب انجام دینے کے بعد سبکدوش  اور ملک سے جانے والا ہے،انہوں نے 30/مئی کو امریکہ میں ٹیلیفونک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اشرف غنی حکومت طالبان سے خفیہ مذاکرات میں مصروف ہے اور پس پردہ طالبان کیساتھ مختلف سطح پر خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

نیکولسن کا یہ بےبنیاد دعوہ امریکی جنرلوں کے ان جھوٹے پروپیگنڈوں کا تسلسل ہے، جنہوں نے ہمیشہ امریکی عوام کو افغانستان کی سیاسی اور فوجی حالات کے متعلق من گھڑت معلومات فراہم کیے ہیں۔ امارت اسلامیہ نے بروقت امریکی جنرل کے اس بےبنیاد دعوے کی وضاحتی اعلامیہ کے ذریعے تردید کی اور موصوف جنرل کو مشورہ دے رہا ہے کہ موجودہ حقائق پر چشم پوشی نہ کریں  اور امریکی عوام کے مختلف معاشرتی طبقات کو افغانستان کی صورتحال کے متعلق جھوٹی تسلی نہ دیا کریں۔

اگر نیکولسن چاہتا ہے کہ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ کی   غلطی سے روبرو لڑائی کو ختم کردیں اور اس ملک میں امریکیوں کے خون اور منابع بغیر کسی ہدف کے ضائع نہ ہوجائیں، تو انہیں چاہیے کہ امریکہ پہنچتے ہی دنیا کے دیگر گوشے میں موجود افغانستان کے بارے میں امریکیوں کو صاف صاف حقائق بتادیں اور امریکی عوام کو تمام مصائب و مسائل سے آگاہ کریں۔

نیکولسن کو چاہیے کہ اس جنگ میں ذاتی اور عینی گواہ کے طور پر امریکی حکام اور عوام اس سے  مطلع کریں ، کہ افغانستان میں سترہ سالہ جنگ اور فوجی جدوجہد کے بعد بھی وہاں امریکی فوج کے لیے کامیابی اور کامرانی کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ ملک کے ستر فیصد اراضی پر طالبان کا قبضہ ہے، طالبان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ عوام کے ان کے دینی اور استقلال طلب داعیہ کی حمایت کرتی ہے اور جان و مال کی قربانی کے بدلے ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

نیکولسن کو چاہیے کہ ایک عینی گواہ کے طور پر امریکی عوام کو یہ بھی بتا دیں کہ کابل انتظامیہ کے حکام جن پر امریکہ نے اربوں ڈالرز خرچ کیے، اب تک ان میں حاکمیت کا استعداد اور قابلیت نہیں ہے۔ انہیں افغان عوام کے مفادات کی جگہ اپنی ذاتی مفادات کا زیادہ فکر ہے  اور ان کا واحد کارنامہ افغانوں کے نام پر آنے والی رقوم کی لوٹ مار، سرکاری املاک پر قبضہ،سیکورٹی فورسز کی لاجسٹک مواد کو ہڑپنے اور اپنی جیبں  بھروانے ہیں۔ یہاں تک کہ اس منحوس کردار کی وجہ سے انہوں نے عوام میں اعتماد کھو دیا ہے اور افغان عوام انہیں قومی سرمایہ کو لوٹنے والوں کی حیثیت سے ان کی شر سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

نیکولسن کو چاہیے کہ یونائیڈاسٹیٹ امریکہ کے منصوبہ ساز حلقہ جات کو اس سے آگاہ کریں،  افغان تنازعہ کا واحد حل طالبان کیساتھ براہ راست مذاکرات اور ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے، جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہو۔ کیونکہ اب وہ وقت آں پہنچا ہے کہ اس طویل جنگ کے بارے میں صاف صاف حقائق کہہ دیے جائیں اور بے بنیاد دعوؤں، فریب دہی اور من گھڑت خوش فہمیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*