الخندق آپریشن کا فاتحانہ سلسلہ

آج کی بات

 

الخندق آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی مجاہدین نے ملک کے مختلف حصوں میں فوجی اڈوں، چوکیوں ، بیسوں اور اضلاع کو فتح کیا، بہت سارے وسائل ، ٹینکوں ، فوجی گاڑیوں، اسلحہ اور گولہ بارود کو مجاہدین نے ضبط کر لیا ، دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا اور ملک بھر میں مجاہدین کے حملوں کے خوف سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے ۔

 

الخندق آپریشن کے سلسلے میں مجاہدین نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران گیارہ اضلاع کو فتح کیا جن میں قلعہ زال، کوہستان، بلچراغ، تالا وبرفک، جغتو، دہ یک، اجرستان، درہ بوم، چورہ ،دشت قلعہ اور پرچمن اضلاع شامل ہیں، اس کے علاوہ بہت سے دوسرے علاقوں پر بھی مجاہدین نے اپنا کنٹرول قائم کیا ہے ۔

 

الخندق آپریشن کے دوران مجاہدین نے صوبہ فراه کے دارلحکومت کو بھی فتح کیا ، صوبہ فاریاب اور غزنی کو محاصرہ کر رکھا ہے ، سرپل، بادغیس، غور اور اروزگان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے ، کابل، قندہار اور لوگر میں فدائی حملوں نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ، مجاہدین کی فتوحات کا سلسلہ ملک بھر میں جاری ہے اور دشمن اپنے زیر اثر علاقوں سے پسپا ہو رہا ہے ۔

 

الخندق کارروائیوں کو کمزور ثابت کرنے کے لئے دشمن نے پروپیگنڈہ کیا ، کٹھ پتلی حکومت کے ترجمان نے الخندق آپریشن کو مجاہدین کا پروپیگنڈا قرار دیا تھا ، زرخرید میڈیا اور مبصرین نے بھی اپنا زور آزمایا تاہم اللہ کی مدد سے الخندق آپریشن کے تحت مجاہدین نے ملک بھر میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں یہاں تک کہ مغریی میڈیا نے بھی شہ سرخیوں کے ساتھ خبریں شائع کیں جبکہ ملکی میڈیا نے بھی الخندق آپریشن کی کامیابی کے حوالے سے خبریں ، تبصرے اور ادارے شائع کئے ۔

 

مجاہدین کے پاس وسائل بھی کم ہیں لیکن پھر بھی وہ اتنے مضبوط ہیں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دشمن ان کا مقابلہ کرنے سے گریزاں ہے ، اس کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجاہدین اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اسلامی نظام کے نفاذ اور ملک کی آزادی کے لئے مقدس جہاد میں مصروف ہیں انہوں نے ذاتی خواہشات کو پس پشت ڈال کر اس عظیم مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور میدان کار زار میں ہر قسم قربانی دینے کے لئے تیار ہیں اس لئے اللہ کی مدد بھی ان کے ساتھ شامل حال رہی ہے اور عوامی حمایت بھی انہیں حاصل ہے ۔

 

مجاہدین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے ،حملہ آوروں اور کابل حکومت پر حملوں کا سلسلہ بڑھائیں گے تاکہ مظلوم عوام کو حملہ آوروں کے مظالم اور کابل انتظامیہ کی کرپشن اور جبر سے نجات دلائیں  اور انہیں پرامن اور اسلامی نظام کی نفاذ کے تحت خوشحال زندگی کے مواقع فراہم کریں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*