امارت خفیہ مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی

آج کی بات

 

افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر نکلسن کی تمام جنگی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ ان کے غرور کا سر نیچا ہوا چکا ہے۔ انہوں نے اپنے فرار کے وقت کہا کہ امارت اسلامیہ افغان کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر رہی ہے۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری کردہ اعلامیہ میں جنرل نکلسن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امارت اسلامیہ امریکا سمیت کسی کے ساتھ بھی خفیہ مذاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔ ترجمان کے مطابق امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات اور رابطے کا طریقہ و مقام سب کو معلوم ہے۔

جنرل نکلسن پینٹاگون کے تمام جرنیلوں سے زیادہ تجربہ کار، ذہین سمجھے جاتے تھے۔ ٹرمپ نے بھی افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی کے اعلان کے وقت انہیں امریکی افواج کے سربراہ کے طور پر برقرار رکھا۔ جب کہ امریکی میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی نکلسن کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے پروپیگنڈا کیا۔ تاہم اللہ تعالی کی حکمت کو دیکھیں کہ جس طرح دیگر امریکی جرنیلوں کو 17 سال میں افغان بہادر عوام نے عبرت ناک سبق سکھایا ہے۔ اسی لیے وہ بڑی خجالت کے ساتھ افغانستان چھوڑ کر پینٹاگون واپس گئے۔ یوں ہم بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ جنرل نکلسن ذلت آمیز حالت میں اپنے عہدے سے سبکدوش کیے گئے ہیں۔ جب کہ افغانستان کے 80 فیصد رقبے پر امارت اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔ عوام مجاہدین کے ساتھ ماضی کی نسبت اب زیادہ تعاون کرتے ہیں۔ خطے کے ممالک بھی یہ سمجھ گئے ہیں کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی سب سے مضبوط اور طاقت ور فوجی اور سیاسی قوت ہے۔ جب کہ امریکا یہ صلاحیت کھو چکا ہے کہ وہ مجاہدین کو شکست دے یا انہیں زبردستی کوئی بات ماننے پر مجبور کرے۔

جنرل نکلسن کو فوجی اور سیاسی ناامیدی اور شکست کے ساتھ افغانستان سے جانا پڑا۔ انہوں نے اپنے دور میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کی۔ اسی لیے انہوں نے اپنی شرمندگی چھپانے اور امریکا پہنچنے سے قبل رائے عامہ گمراہ کرنے کے لیے یہ پرویگنڈا کیا کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ نکلسن اور امریکا نے افغانستان میں اللہ کی مدد سے افغان عوام کے خالی ہاتھوں سے بری طرح شکست کھائی ہے۔ وہ پوری دنیا میں افغان جنگ کی وجہ سے بدنام ہوئے ہیں۔ اب شکست کی رسوائی سے بچنے کے لیے نام نہاد مذاکرات کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ کچھ ممالک میں مذاکرات کے حوالے سے کانفرنسوں اور اجلاسوں کا انعقاد کر کے چند بے ضمیر لوگوں کو خریدا گیا ہے۔ جن کے ذریعے نام نہاد مذاکرات کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو مجاہدین کے نام پر آگے لا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

اسلام کے ان ابدی دشمنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ امارت اسلامیہ اب ان تمام بحرانوں سے اللہ کے فضل و کرم سے نکل چکی ہے۔ میدان جنگ میں امریکی سپرپاور اور اس کے غلاموں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ سیاست اور سفارت کاری کے میدان میں بھی دشمن کے تمام مذموم عزائم اور منصوبے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔ جس کی ایک مثال حال ہی میں امریکی کوششوں سے انڈونیشیا میں منعقد اجلاس تھا۔ جس کو افغان عوام نے مسترد کر دیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*