کابل حکومت اسلامی شعائر کی دشمن

آج کی بات

افغانستان پر جارحیت پسندوں نے ایف 52 اور ایف 16 طیاروں کے زور پر نااہل اور کٹھ پتلی حکومت مسلط کی ہے۔ جس نے ملک کو فوجی، سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔ افغان حکومت نے حملہ آوروں کے تعاون سے لاکھوں مظلوم اور نہتے افغانوں کو شہید، زخمی اور بلاوجہ گرفتار کر رکھا ہے۔ مساجد، مدارس، اسکولز، کلینکس اور عوامی افادیت کے حامل مقامات کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ظلم اور تباہی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مظلوم عوام کے گھروں اور باغات کو تباہ کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔

5 جون کو کٹھ پتلی فورسز نے حملہ آوروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران صوبہ لوگر کے ضلع برکی براک کے علاقے دیمو غلان اور ناکام قلعہ میں دو مساجد پر وحشیانہ بمباری کی، جس کے نتیجے میں 4 عام شہری شہید ہوگئے۔ دشمن نے حسب سابق کہا کہ ان پر (یعنی افغان فوج پر) پہلے مجاہدین نے حملہ کیا، جوابی کارروائی میں ممکن ہے کہ شہریوں کو بھی نقصان ہوا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات اس وقت رونما ہوئے کہ اس علاقے میں مجاہدین موجود تھے اور نہ ہی دشمن پر کسی نے حملہ کیا تھا۔

حال ہی میں حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت نے منظم انداز سے مساجد، مدارس، علماء اور اسلامی شعائر کی توہین کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ قندوز کے ضلع دشت آرچی میں نہتے حفاظ کرام کی شہادت کا الم ناک سانحہ، فراہ میں دستاربندی کی تقریب پر بمباری، ہلمند کے ضلع کجکی میں مدرسے پر حملہ، میدان وردگ میں معصوم طالب علموں کی شہادت، قندھار، بادغیس، فاریاب، بغلان، کنڑ، ننگرہار، پکتیا اور خوست میں مدارس اور مساجد پر مسلسل حملے، چھاپے اور بمباریاں اسی سلسلے کی مثال ہیں۔

کابل انتظامیہ کے سیاہ کرتوت، مذموم عزائم اور دین و ملک کے ساتھ دشمنی عوام پر عیاں ہوگئی ہے۔ دشمن یاد رکھے کہ وہ افغانستان میں اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ مجاہدین دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گے۔ ان کے خلاف اقدامات اٹھائیں گے۔ ان کا مقابلہ کریں گے۔ امارت اسلامیہ اسلامی شعائر، مذہبی اقدار، مقدس مقامات، قومی وقار اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ وہ اس راہ میں بہت سی تکالیف اور مشکلات برداشت کر کے افغانستان کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مصروف عمل ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*