عوام کا سکون امارت اسلامیہ کی اولین ترجیح

اگر امارت اسلامیہ کے فلسفۂ وجود کے متعلق بحث کی جائیں، تو اڑھائی عشرہ قبل افغانستان کے ناگفتہ بہ  مصیبت زدہ حالت اورافراتفری کے زمانے کو یاد کرنا چاہیے۔  کمیونزم کے خلاف مقدس جہاد کی کامیابی کے بعد  جن جنگجوؤں نے اقتدار  اور مادیات کی لالچ کے تگ ودو میں باہمی جنگیں شروع کیں،  ملک بھر باہمی  جنگوں، بدعنوانی، لوٹ مار، بدامنی وغیرہ میں بہہ گیا۔ نہ صرف ایک سربلند مسلمان عوام ہمیشہ سقوط اور زوال سے روبرو تھا ، بلکہ افغانستان کے نام سے اسلامی ملک بھی تقسیم کے خطر سے دوچار تھا۔

تحریک اسلامی طالبان کا قیام اس وجہ سے عمل میں آیا، کہ اس افراتفری کے سالوں کے مصائب کو محوہ کردیے جائیں۔ مظلوم کی گریبان کو ظالم سے نجات دلوایا جائے۔ امن ، عزت ، رفاء اور استحکام سے عوام کو روشناس کرواجائے  اور اہل وطن کو جنگ اور ناامنی کی مشکلات سے تحفظ فراہم کریں۔

اس تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کے عظیم اہداف میں سے ایک اپنے مسلمان اور مصیبت زدہ عوام کا استحکام اور امن ہے۔ حالیہ شرائط میں اگرچہ ہمارا ملک اور ملت ایک عظیم امتحان سے روبرو ہے، ہمارے ملک پر غاصبوں کا قبضہ ہے اور ان کے خلاف اسلام کے مقدس ہدایات کی روشنی میں مقدس جہاد جاری ہے۔مگر اس استثنائی  حالت کیساتھ ساتھ امارت اسلامیہ نے اپنی قوت کے دائرے میں  عوام کے امن و امان کے لیے کسی مشروع اقدام سے روگردانی نہیں کی ہے۔

امارت اسلامیہ نے اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں مثالی امن قائم کیا ہے۔ عام منافع، تعلیم وتربیت، صحت اور تعمیرنو کے لیے لازم اقدامات انجام دیے ہیں۔ شہری نقصانات کے روک تھام کے لیے اپنی تمام تر توانائی کو بروئے کار لائی ہے، جس کی برکت سے ہمارا  شاندار جہاد تاریخ کا وہ بے مثال جنگ یاد کی جاتی ہے، جس میں شہری نقصانات دیگر جنگوں کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایسی حالت میں دشمن کی میڈیا امارت اسلامیہ پر عوام کو  تکلیف پہنچانے کے  الزامات لگارہے ہیں۔ امارت اسلامیہ نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر ثابت کردیا کہ عوام کے استحکام کو ایک مبرم ضرورت اور اہمیت کی نظر سے دیکھتی ہے۔24/ رمضان المبارک 1439 ھ کو امارت اسلامیہ کی قیادت کی جانب سے مجاہدین کے لیے خصوصی ہدایات جاری ہوئے،جن میں کہا گیا تھا کہ مجاہدین  عیدالفطر کے تین دنوں میں داخلی فوجیوں کے خلاف جنگ کو بند کردیں، تاکہ افغان عوام عید کے ایام تسلی اور خوشی سے منائیں۔

قابل یاد آوری ہےکہ ہمارا مقصد افغان عوام کی ایسی نیک بختی اور استحکام ہے کہ دنیا بھی میں اسلام کے سنہرے ہدایات کے زیرسایہ معزز اور پرامن زندگی رکھے اور قیامت میں بھی اللہ تعالی کے سامنے حقیقی مؤمنوں کی طرح سرفراز رہے۔ ہم نے اپنے دوراقتدار میں مثالی امن قائم کرنے سے ثابت کردیا تھا کہ عوام کا امن و امان اور استحکام ہمارے عظیم اہداف میں سے ہیں۔ مگر بیرونی استعمار نے ہمارے ملک کے پرامن فضا کو بارود اور بمباری کی بدبختی میں بدل دی اور اب سترہ سال بیت چکے ہیں ،کہ افغان ملت سے امن کو  چھین لیا گیا ہے۔

امارت اسلامیہ کے پاس موجودہ جنگ کو ختم کرنے کی خاطر بیرونی غاصبوں سے مذاکرات کی جامع پالیسی ہے، امید ہے کہ بیرونی غاصب بھی افغان عوام کی پرامن زندگی کو رسمی طور پر تسلیم کریں اور  زورآزمائی کی ناکام سیاست کو مزید استعمال نہ کریں،تاکہ افغانی پائیدار امن اور اپنے مقدس اہداف تک پہنچ سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*