عید الفطر کی مناسبت سےعالی قدر امیرالمؤمنین شیخ الحدیث مولوی ہبت اللہ اخندزادہ حفظہ اللہ کا پیغام

بسم الله الرحمن الرحیم

إن الحمـد لله نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن سيدنا ونبينا محمداً  عبده ورسوله، صلى الله علیه وسلم، وعلى آله وأصحابه، ومن سار على نهجه وتمسك بسنته إلى يوم الدين. وبعد!

قال الله تعالی: وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا۔ (الاحزاب 22)

قابل احترام مسلمانو، مؤمن ہم وطنو اور مجاہدین!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سب سے پہلے  آپ حضرات کو عید سعیدالفطر کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

عید مبارک ہو! اللہ تعالی آپ کے روزے، عبادات اور تمام اعمال حسنہ قبول فرمائیں۔ آمین

عید کی خوشیوں میں حالیہ جہادی فتوحات کی مبارک باد بھی پیش کرتا ہوں۔ الخندق آپریشن کے آغاز سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں متعدد ضلعی مراکز اور وسیع علاقے مجاہدین کے ہاتھوں فتح ہو چکے ہیں۔ الحمد للہ۔ اللہ تعالی نے امارت اسلامیہ کو دشمن کے حملوں کے خلاف ثبات اور استقامت نصیب فرمائی۔ جارح امریکا کی ظلم و درندگی سے بھرپور پالیسی ناکام بنا دی ہے۔ اللہ تعالی مؤمن عوام اور مجاہدین کی جدوجہد، قربانی اور تمام شہداء کی شہادتوں کو قبول فرمائیں۔ زخمیوں کو شفائے کاملہ و عاجلہ اور قیدی مجاہدین کو نجات اور آزادی عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین

مسلمان بہن بھائیو!

استعمار کے خلاف ہمارا جہاد دین، عقل اور انسانی قوانین کے تمام معیارات پر پورا اترتا ہے۔ ہمارے مقصد کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری مسلم قوم اپنے اسلامی نظریے کے مطابق اسلامی نظام کے زیرسایہ آزادانہ زندگی گزار سکے، مگر وقت کے جابر امریکی طاغوت اور اس کے حواری چاہتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنا نظریہ مسلط کر دیں۔ ہمارے خطے کو ایک فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرے۔ ہم سے زندگی کا بنیادی حق ‘آزادی’ چھین لے۔

امریکا افغانوں کو کچلنے میں کسی ظلم اور قساوت قلبی سے دریغ نہیں کرتا۔ ہمارے گاؤں، شہروں، مساجد، مدارس اور دیگر تقریبات پر بمباری کی جاتی ہے۔  شہریوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ انہیں گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں افغانی عقوبت خانوں میں وحشت ناک تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ استعمار نے خود کو ہر قسم کی عدالتی کارروائی سے مستثنی قرار دے کر رکھا ہے۔ جس سے کوئی  پوچھ گچھ نہیں کر سکتا۔ علاوہ ازیں استعمار افغانستان میں فتنہ، بداخلاقی، تعصب اور تنازعات کو بھی جنم دینا چاہتا ہے۔ ہمارے خطے کے قیمتی ذخائر لوٹے جا رہے ہیں۔ اپنے استعماری اہداف کے حصول کے لیے یہاں نئے جنگی گروہوں کو منظم کر رہا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ ہمارے ملک کو تمام خطے اور ہمسائیہ ممالک کے خلاف  ایک مخالف محاذ کے طور پر استعمال کرے۔ اگر امریکی استعمار کی اس خطرناک پالیسی کو نافذالعمل ہونے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو تمام خطہ اور خاص کر افغانستان اور افغان عوام ایسے مسائل اور رنجشوں میں الجھ جائیں گے، جن سے نجات کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

ان تمام مصائب سے چھٹکارے کا واحد حل یہ ہے کہ امریکا اور دیگر غاصب افواج افغانستان سے نکل جائیں۔ یہاں افغان عوام کی امنگوں کے مطابق اسلامی اور خودمختار نظام قائم ہونے دیا جائے۔ ہمارا جہاد اسی ہدف کے لیے شروع ہوا ہے اور اسی مقصد تک پہنچنے کے لیے ہم نے مسلح جہاد کے ساتھ ساتھ افہام و تفہیم اور مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے ہیں۔ اس سلسلے میں امارت اسلامیہ کا قطر میں موجود سیاسی دفتر واحد ذریعے کے طور پر سرگرم عمل ہے۔

اگر امریکی حکام افغان تنازع کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں تو  انہیں براہ راست مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔ تاکہ جارحیت کے اس المیے کو ختم کیا جا سکے، جس کا بڑا نقصان افغان اور امریکی عوام کو پہنچ رہا ہے۔

امریکی حکام کی بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں طاقت کا استعمال عمل میں لاتے ہیں۔ جب کہ ہر جگہ طاقت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔ ہمیں بطور ایک مسلمان یہ حق حاصل ہے کہ ہر ممکن جائز طریقے سے غاصبوں کو اپنے ملک سے نکال کر دم لیں۔ اگر کل برطانوی استعمار اور سوویت یونین کے خلاف ہمارا جہاد جائز اور برحق تھا تو آج امریکی قبضے کے خلاف بھی ہمارا جہاد ویسے ہی جائز اور برحق ہے۔ اس بات کی کوئی تک نہیں ہے کہ کل کی بیرونی جارحیت کو ناجائز اور آج کی جارحیت کو تسلیم کر لیا جائے۔

دنیا اور افغانستان کے علمائے کرام کو میرا خصوصی پیغام یہ ہے کہ امریکا اور اس کے حواری تقریبا دیگر تمام شعبوں میں شکست کھا چکے ہیں، اب وہ کوشش کر رہے ہے کہ علمائے کرام کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے۔ ان کی حیثیت اور بےداغ تاریخ داغ دار کر دی جائے۔ مؤمن عوام کے دلوں اور ذہنوں سے ان کا مقام اور وقارختم کر دیا جائے۔ علمائے کرام کو بہت ہشیار رینا چاہیے۔ خدانخواستہ دشمبلن کسی بھی ملک میں منعقد اجلاس میں ان کی شرکت سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا لے۔ یقینا اس کا نقصان سرزمین اسلام کی آزادی کی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو پہنچے گا۔ کیوں کہ دشمن اس جہاد کو افغانستان کی باہمی خانہ جنگی باور کرانا چاہتا ہے۔

اے افغان مجاہد عوام!

غاصب دشمن تمہارے مقابلے کے ہر محاذ پر شکست سے دوچار ہے۔ دشمن نے صرف میڈیا کے ذریعے مجاہدین کے خلاف پروپیگنڈے کے سلسلے کو ہوا دی  ہے۔ وہ کبھی مجاہدین کو  دہشت گرد کہتا ہے۔ کبھی ان کی برحق دفاعی مزاحمت کو مختلف غلط اور بے بنیاد نام دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجاہدین تمہارے بھائی اور بیٹے ہیں۔ تمہارے دین اور ملک کے محافظ ہیں۔ اگرچہ دشمن کا حامی میڈیا جو بھی کہتا رہے، مگر تمہیں تو حقیقت بخوبی معلوم ہے۔ اس لیے دشمن کے پروپیگنڈے پر یقین مت کریں۔ اپنے حواس اور علم پر اعتماد کریں۔ امارت اسلامیہ صرف یہ چاہتی ہے کہ آپ کی زندگی قرآن کریم کی ہدایات سے منور ہو جائیں۔ معیاری تعلیم، شرعی نظام، آزادی، وقار، سربلندی اور پرامن زندگی میسر ہو جائے۔ آئندہ نسلیں کفریہ جارحیت کے  تباہ کن اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ ہم دینی اور عصری علوم کو افغان معاشرے کی کامیابی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

ہم نے اللہ تعالی کی نصرت سے اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں مثالی امن و امان قائم کیا ہے۔ حسب توفیق و امکانات عوام کے آرام، تعلیم اور ترقی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مستقبل کے بارے میں اہل وطن کو تسلی دیتے ہیں کی ان شاءاللہ ملک کا مستقبل دین کی روشنی اور آزادی کے نور  سے جگمگائے گا۔ امارت اسلامیہ کی کوشش ہے کہ افغان عوام اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔ عوام کو روزگار ملے۔ مقامی معیشت ترقی کرے۔ عوام کو اپنے ہی ملک میں رزق حلال کمانے کے امکانات میسر ہو جائیں۔ ہم تمام مالی طور پر مستحکم حضرات، تاجر اور کاروباری برادری کو متوجہ کرتے ہیں کہ تمام افغانستان خاص کر مجاہدین کے زیرکنٹرول علاقوں میں زراعت اور اس سے متعلقہ امور کو ترقی دیں۔ کارخانوں کا قیام اور فیکٹریوں کی تنصیب عمل میں لائیں۔ امارت اسلامیہ ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرے گی۔

امارت اسلامیہ کے نزدیک شہری نقصانات کا موضوع بہت اہم اور بنیادی معاملہ ہے۔ وہ اپنے عوام کو تسلی دیتی ہے کہ شہری نقصانات کی روک تھام کے لیے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔

اسلام میں بےگناہ مسلمان کا قتل شرک کے بعد دوسرا عظیم گناہ ہے۔ کوئی اہل ایمان نہیں چاہتا کہ اس سے ایسا گناہ سرزد ہو۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے اللہ تعالی کی رضا کی خاطر جہاد کی پرمشقت زندگی قبول کی ہے۔ وہ کبھی بھی شعوری طور پپر ایسا کام نہیں کرتے، جو اللہ تعالی کی سخت ناراضی کا سبب بنتا ہو۔ البتہ شہری ہلاکتوں کے معاملے میں حقیقت یہ ہے کہ ایسے بیشتر سانحات استعمار یا اس کے گروہوں کی جانب سے جان بوجھ کر پیاس آتے ہیں۔ اس سے استعمار کا مقصد یہ ہے کہ جہادی کارروائیوں کو کمزور اور بدنام کیا جا سکے۔ استعمار ہی شہری ہلاکتوں کے مرتکب افراد کی فنڈنگ کرتا ہے۔ عوام کو ہشیار رہناچاہیے کہ ہر حادثے کی گہرائی پر گہری نظر رکھا کریں۔ دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔

ہم دشمن کی صفوں میں موجود فوجیوں، عوام، حکام اور تمام کارکنوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تم اسی سرزمین اور عوام کے فرزند ہو۔ تمہارے آباء و اجداد مسلمان اور قرآن و اسلام کے پیروکار تھے۔ آپ کے لیے کسی طور جائز نہیں کہ     اپنے مجاہد عوام کے خلاف ان غاصبوں کے زیرکمان لڑو۔ وہ ہمارے اسلام اور قرآن کے شدید دشمن ہیں۔

انہوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وہ ہمارے عوام پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔

تمہارے خلاف ہماری مخالفت صرف اسی وجہ سے ہے۔ اگر تم استعمار کی حمایت سے دست بردار ہو جاؤ تو ہمارے بھائی قرار پاؤ گے۔ جس طرح مجاہدین  افغانستان کے طول و عرض میں دشمن کی صفوں سے علیحدہ ہونے والے فوجیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، ان کے جنگی قیدیوں کا علاج اور حفاظت کرتے ہیں، وہ تمہیں بھی جان و مال کا امن دیں گے۔ امریکی حمایت میں قتل ہونے سے پہلے آپ بھی اپنی دنیوی و اخروی نجات کے لیے غور و فکر کریں۔ بہتر یہ ہے کہ خود کو استعمار کی صف سے علیحدہ کر لیں۔

امریکا کی جانب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس شہر میں منتقل کرنا وہ اقدام ہے، جس نے اسلام، امت مسلمہ اور اسلامی شعائر سے امریکی حکام کی دشمنی مزید واضح کر دی ہے۔ ہم اس اقدام کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتےہیں۔ مسلمانوں کے قبلہ اول (مسجد الاقصی) کے تنازع کو امت مسلمہ کا تنازع سمجھتے ہیں۔ بیت المقدس شہر کو عالم اسلام کا ناقابل قطع حصہ سمجھتے ہیں۔

آخر میں مجاہدین اور مقامی عہدے داروں کو ہمارا یہ پیغام ہے کہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے اور بھرپور اخلاص سے ادا کریں۔ افغانستان کے جن علاقوں میں مجاہدین کی انتظامی سرگرمیاں جاری ہیں، وہاں مجاہدین کے لیے بڑی آزمائش یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی دین کے مطابق عوام کی خدمت کرتے اور اسلامی عدالت کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں؟!

ہم سب اللہ تعالی کے ہاں جواب دہ ہیں۔ ہر کسی سے اس کی ذمہ داری اور ماتحت رعایا سے متعلق پوچھ گچھ ہو گی۔ اللہ تعالی خبیر اور ہر چیز کے جاننے والے ہیں۔ ہمارا معاملہ اللہ تعالی سے ہونا چاہیے۔ ہم صرف اللہ تعالی کی رضا کی خاطر مخلوق کی خدمت احسن طریقے سے انجام دیں۔ عوام کے معاملات میں ساتھ حسن سلوک، نرم اخلاق، تواضع اور حلم کو اپنی عادت بنانا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جنل رضی اللہ سے فرمایا:

   إتق الله حيثما كنت، إتبع السيئة الحسنة تمحها و خالق الناس بخلق حسن. رواه ترمذی۔وقال: حدیث حسن.  

ترجمہ : جہاں بھی ہو، اللہ سے ڈرتے رہو۔ گناہ (ہو جائے تو اس) کے بعد نیکی کر لیا کرو۔ وہ (نیکی گناہ کو) مٹا دیتی ہے۔ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے معاملہ کرو۔

تمام ذمہ داران کو چاہیے کہ عوام کی خدمت اور رعایا کے حقوق کو پہنچانے کی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

  الا كلكم راع و كلكم مسئول عن رعيته، فالإمام راع وهو مسئول عن رعيته، والرجل راع في أهله وهو مسئول عن رعيته۔ (رواه البخاری و مسلم)

ترجمہ: تم میں سے ہر فرد ایک طرح کا حاکم ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہوگا۔ پس بادشاہ حاکم ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہوگا۔ ہر انسان اپنے گھر کا حاکم ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔

آخر میں ایک بار پھر عید سعیدالفطر کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میرا تمام مجاہدین اور عوام سے مطالبہ ہے کہ گاؤں اور پڑوس کے غرباء، یتیم، بیوہ، لاچار مسلمانوں اور قیدی حضرات کے خاندانوں کو عید کی خوشیوں میں فراموش نہ کریں۔ ان کے ساتھ تعاون کریں، تاکہ وہ بھی عید منا سکیں اور خوشیوں کے اس موقع سے محروم نہ رہ جائیں۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عالی قدر امیرالمؤمنین شیخ الحدیث مولوی ہبت اللہ اخندزادہ حفظہ اللہ تعالی

زعیم امارت اسلامیہ افغانستان

۲۷ رمضان المبارک ۱۴۳۹ هـ ق

12/6/2018

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*