غزنی میں ریڈیو صدائے شریعت کے مرکز پر حملے کے  متعلق ترجمان کا ردعمل

غاصب امریکی افواج نے ایک روز قبل صوبہ غزنی میں امارت اسلامیہ کے مقامی ریڈیو (صدائے شریعت) کے مرکز پر پانچ ہیلی کاپٹروں سے وزنی بم گراکر شدید بمباری کی۔

اس عمل سے جمہوریت اور آزادی بیان کے دعویداروں نے اپنے حقیقی چہرے کو ظاہر کردی، کہ وہ کسی صورت میں مخالفت جہت کے فکر، آواز اور ابلاغی ذرائع  کا احترام نہیں رکھتے۔ استعمار آزادی اظہار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف اپنے خیالات، ثقافت اور استعماری اہداف کو دیگر اقوام مسلط کرنا چاہتا ہے۔

ملک میں چند فریب خوردہ افراد  کا بھی یہ خیال ہے کہ گویا امریکہ کی جانب سے اظہار رائے کی آواز کا نعرہ حقیقت ہے۔ مگر اب امارت اسلامیہ کا ایک مقامی نسبتا کمزور  ذریعہ ابلاغ (ریڈیو صدائے شریعت) بھی دشمن کی جانب سے برداشت نہیں کی جاتی ، پانچ عصری طیاروں کی بمباری کی تحفہ بن کر اس کے مرکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اس سے  واضح ہوا کہ امارت اسلامیہ کا حوصلہ، حلم اور برداشت دشمن کی نسبت  کئی گنا  زیادہ اور منطقی ہے۔

افغانستان کے تمام باشندے گواہ ہیں کہ سترہ سال بیت رہے ہیں کہ غاصب امریکی اور ان سے منسلک درجنوں ابلاغی ذرائع مجاہدین اور افغان عوام کے خلاف پروپیگنڈہ کررہا ہے،  مگر ایک دن بھی کسی میڈیا کو مجاہدین نے حملے کا نشانہ نہیں بنایا،اس لیے اسے ذرائع کی نگاہ سے دیکھا جاتا، مگر اب اہل وطن فیصلہ کرینگے کہ ہمارا دشمن کتنا پست اور ذلیل ہے، جو اپنے نعرے (آزادی بیان) کے اصل کے خلاف  مخالف پہلو کے رائے کو سننے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اسلام سے اس کی دشمنی بھی اس نہج پر پہنچی ہے کہ شریعت کے نام سے صرف ایک آواز کو بھی برداشت نہیں کرسکتا  اور اسکے ساتھ اس طرح وحشی سلوک کررہا ہے۔

افغان غیور ملت کو  سمجھنا چاہیے کہ استعماری افواج نے جس طرح ہمارے ملک، حریم، فضا اور ہوا کو قبضہ  میں رکھی  ہوئی ہے، اسی طرح ہمارے افکار کو مسخر کرنے کی کوشش کرہی ہے، اسی لیے شریعت مقدسہ اور مجاہدین کی حریت پسند صدا  کو اپنی ملت تک پہنچنے نہیں دینا چاہتی۔

اب یہاں ذرائع سے دفاع کرنیوالے وہ  ادارے بھی آزمائش میں آتے ہیں،جو امارت اسلامیہ کے مجاہدین سے بار بار دشمن کی ذرائع ابلاغ کا حق چاہتی ہے اور اس سے دفاع کرتی ہے، اب ہم انتظار کرینگے کہ امارت اسلامیہ کی ابلاغی ذرائع پر ہونے والے حملے کے متعلق وہ کس طرح فیصلہ کریگا؟

دشمن اور ذرائع ابلاغ کے مدافع اداروں کو  سمجھنا چاہیے کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین مزید اس طرح ظالمانہ اعمال کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی اور اگر آئندہ ہماری ابلاغی ذرائع کیساتھ ایسا عمل کیا گیا،  تو اس کا  ردعمل شدید تر ہوگا۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

27/ رمضان المبارک 1439 ھ بمطابق  12/ جون 2018ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*