نیٹو نمائندے کے دعوے کے حوالے سے ترجمان کا بیان

ایک روز قبل سول شعبے میں نیٹو کے نمائندے کورٹلیوس زیمرمن نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئےدعوہ کیا  کہ امارت اسلامیہ سے غیررسمی بات چیت جاری ہے۔ ہم اس دعوے کی پرزور الفاظ میں تردید کرتے ہیں اور تاکیدا  ہیں، کہ کسی قسم کی خفیہ بات چیت نہیں ہوئی۔البتہ جن مجاہدنما اور مادیت پرست  افراد نے کابل مضطرب اور ناخبر انتظامیہ کو دھوکہ دی ہو اور اپنے آپ کو مجاہدین متعارف کروائے ہو، تو یہ الگ بات ہے، اس طرح افراد کا امارت اسلامیہ اور مجاہدین کیساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں ہے، چند روز قبل امریکی جنرل کمانڈر جنرل نیکولسن کے اسی نوعیت دعوے کے متعلق امارت اسلامیہ کے ترجمان نے ردعمل کا اظہار کیا تھا، کہ خفیہ اور مرموز گفتگو پر ہمیں یقین نہیں ہے  اور اب تک کسی مقام پر کسی سے بھی ایسی بات چیت جاری نہیں ہے۔

نیٹو اور امریکی حکام اس وجہ سے ایسے بےبنیاد دعوے کررہے ہیں کہ افغانستان میں اپنی شکست اور حقیقی صورتحال سے عام اذہان کو کسی اور جانب مبذول اور مصروف کروادے۔

امارت اسلامیہ ایک بار پھر ظاہر کرتی ہےکہ افغان تنازعہ کا بنیادی حل استعماری افواج کی افغانستان سے  انخلاء اور  زمینی حقائق کو تسلیم کرنے میں ہے۔

جھوٹے دعوے پروپیگنڈے کے مد میں مختصر فائدہ دیتی ہے، مگر تنازعہ کے حل کو مزید سخت کردیگی اور  حقیقی صورتحال سے استعماری دشمن کے فرار کے معنی سے تعبیر ہوگا ۔

ذبیح اللہ مجاہد تر جمان امارت اسلامیہ

27/ رمضان المبارک 1439 ھ بمطابق  12/ جون 2018ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*