عید کی مناسبت سے تین روزہ جنگ بندی کے اختتام کے حوالے سے امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

اہل وطن کی سہولت اور سکون کی غرض سے امارت اسلامیہ نے عید الفطر کی مناسبت سے ملک بھر میں تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا، جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ مذکورہ جنگ بندی کابل انتظامیہ کی جنگ بندی کی خاطر نہیں ، بلکہ عوام کی سہولت کی غرض سے اعلان کیا گیا، جو آج 03/شوال المکرم 1439 بمطابق 17/ جون 2018ء کو اختتام کو پہنچنے والی ہے۔

ملک بھر میں مجاہدین کو حکم  دیا جاتا  ہے کہ بیرونی غاصبوں اور ان کے داخلی کٹھ پتلیوں کے خلاف ماضی کے مانند آپریشن کو جاری رکھو۔

بہترین طریقے سے عملی ہونیوالی گذشتہ تین روزہ جنگ بندی نے درج ذیل نکات کو واضح کردی۔

۰ یہ بات ثابت ہوئی کہ امارت اسلامیہ کے پاس موجودہ جہاد اور مزاحمت کا مکمل قوت اور اختیار ہے، اس میں کوئی بیرونی دخل اندازی موجود نہیں ہے، مجاہدین کی صف متحد ہے،  جو جنگ کی طرح اہم موضوعات کے بارے میں فیصلہ کرکے اسے عملی کرسکتا ہے۔

۰ کابل انتظامیہ کے تمام فوجی اور سول حکام کو امارت اسلامیہ نے بہترین موقع فراہم کی، کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کو اچھے طریقے سے پہچان لے اور امریکی حمایت سے دستبردار ہوجائے، تاکہ وطن عزیز بیرونی جارحیت کی شر سے نجات پائے  اور ملک بھر میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے راہ ہموار ہوجائے۔

۰ ماضی میں ہمارا دشمن پروپیگنڈے پھیلارہے تھے، کہ افغانستان میں ان کیساتھ 20 گروہ لڑ رہے ہیں اور یا یہ کہ امارت اسلامیہ واحد صف نہیں ہے، مگر اب سب پر اظہرمن الشمس واضح ہوئی کہ یہ دعوہ غلط رہی اور جہادی صف میں متعدد گروہ نہیں ہے،ملک بھر میں جہادی باگ ڈور  امارت اسلامیہ کے پاس ہے اور امارت اسلامیہ کے افراد محکم اطاعت کررہا ہے۔

۰ امارت اسلامیہ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان، عملی ہونے، مجاہدین کیساتھ وسیع عوامی حمایت اور استقبال سے یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ امارت اسلامیہ اور مصیبت زدہ عوام کا مطالبہ ایک ہی ہے، سب بیرونی غاصب افواج کی انخلاء اور اسلامی نظام کا قیام چاہتا ہے۔

۰ امارت اسلامیہ کی جانب سے تمام فیصلے شریعت کے بنیاد اور عوام کے مفاد میں انجام ہوتے ہیں۔ ملک کی مکمل آزادی اور یہاں حقیقی اسلامی نظام کا قیام ہمارے شریعت کا حکم اور لاکھوں شہداء، یتیموں اور بیواؤں کی عظیم آرزو ہے، جس پر کسی طور اور کسی امتیاز کے بدلے معاملہ نہیں کی جائيگی۔

۰ امریکی غاصب پہلو مزید حقائق کو درک اور تسلیم کریں، بےمعنی زورآزمائی سے دستبردار ہوجائے، موجودہ تنازعہ کے حل کی خاطر براہ راست امارت اسلامیہ سے مذاکرات کو اختیار کریں اور اپنی جارح افواج کو افغانستان سے نکالیں۔

۰ اہل وطن اور مجاہدین کو باخبر رہنا چاہیے کہ کابل کٹھ پتلی انتطامیہ سے کسی قسم کے آشکار اور خفیہ مذاکرات نہیں ہورہے ہیں، اس بارے میں اگر مخالف جہت جتنے بےبیناد پروپیگنڈہ اور عام اذہان کو ورغلانے کی جدوجہد کریں، وہ موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ کرتی ہے اور صلح کو فائدہ دینے کے بجائے اس کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان

03/ شوال المکرم 1439 ھ بمطابق 17 / جون 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*