دینی علماء کے عنوان سے امریکہ کی جانب سے مرتب شدہ اجلاسوں کے متعلق امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ کہ امریکہ اور اس کے حواریوں نے سترہ سال قبل افغانستان کی قانونی اسلامی حکومت اور اسلامی سرزمین پر جارحیت کی اور اس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا۔ گذشتہ سترہ سالوں کے دوران افغان ملت نے بےدریغ قربانیوں کی برکت سے جارح افواج کو اس پر مجبور کردی،کہ جنگ میں شکست کو تسلیم  اور مملکت اسلامیہ افغانستان سے فرار کے لیے آمادگی ظاہر کریں۔

تو کامیابی سے  مایوس کافروں نے اب چند سازشوں کو بروئے کار لائے ہیں، تاکہ افغان مؤمن اور حریت پسند عوام کی استقلال کی صدا کو خاموش اور ان کی قربانیوں کے ثمرات کو ضائع کروادیں۔

جارح امریکی افواج کے جنرل کمانڈر جنرل نیکولسن نے 18/ مارچ 2018ء کو کابل میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ رواں سال طالبان پر مختلف دباؤ ڈالنے کے امریکی منصوبے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم طالبان پر فوجی، سیاسی اور حتی مذہبی دباؤ ڈالیں گئے،مذہبی دباؤ کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان، پاکستان اور چند دیگر اسلامی ممالک کے علماء کے نام سے تقریبات منعقد کیں جائیں اور ان تقریبات میں طالبان کے خلاف فتوی جاری کیا جائیگا اور ان کی مزاحمت کے جواز کو مذہبی رو سے زیر سوال لایا جائیگا۔

اسی سلسلے میں امریکی منصوبے کی رو سے علماء کا پہلا اجلاس 11/ مئی 2018ء کو انڈونیشیا کے بوگور شہر میں منعقد کیا گیا اور منصوبہ یہ تھی کہ آئندہ مزید اجلاسوں کے انعقاد کابل، اسلام آباد اور سعودی عرب میں کیا جائیگا۔

علماء کے عنوان سے دینی علماء کے اس منصوبے کو امارت اسلامیہ مکمل امریکی اسلام دشمن منصوبہ سمجھتی ہے، جس کی منصوبہ بندی، فنڈنگ اور عملی ہونے کے تمام امور امریکی غاصبوں کی جانب سے رہبری ہوتے رہتے ہیں،ایسے اجلاسوں کےذریعے امریکہ اپنی ظالمانہ فوجی جارحیت کو  جوزار ڈھونڈتے اسے دینی رنگ دیتے ہیں ،تاکہ اس کے خلاف افغان مؤمن عوام کے شروع ہونے والے جہاد کو کمزور کریں۔

مگر جس طرح امریکہ فوجی، سیاسی اور پروپیگنڈے کی جدوجہد میں ناکامی سے روبرو ہو اہے،تو اللہ تعالی اس کے اس حالیہ سازش کو بھی شکست اور رسوائی سے روبرو کریگا۔اللہ فرماتے ہیں کہ

يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ سورة الصف ۸

استعمار کی اس سازش کے بابت امارت اسلامیہ  علماء دین کو اعلان کرتی ہے کہ اس طرح اجلاسوں سے اپنے آپ کو دور  رکھے۔ بعض علماء اور مشائخ اس وجہ سے ایسے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم وہاں حق کی باتیں بیان کرکے مجاہدین کی داعیہ سے دفاع کرینگے۔ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ اگر آپ حضرات وہاں جتنا بھی حقائق بیان کرینگے، مگر اس کے باوجود اجلاس کا آخری فیصلہ اور میڈیا پروپیگنڈہ استعمار کے قبضے میں ہے، استعمار آپ کےبیانات کو تحریف کرواکر اپنی مفاد میں تعبیر کرتے ہیں، جیساکہ  انڈونیشیا کے اجلاس میں سامنے آیا،کہ چند دینی علماء کے بر حق اظہارات کو میڈیا میں نشر نہیں کی گئی اور صرف علماء کے توہین کی خاطر ڈرامہ رچایا گیا کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے حضرات میں   خصوصی لفافوں کے ذریعےڈالر تقسیم کیے گئے۔

جیسا کہ کابل کی تقریب میں دیکھا گیا کہ چند علماء کو جمع کروایا گیا اور  بعد میں پہلے سے مرتب شدہ مضمون کو فتوی کے نام سے انہیں سنایا گیا ،جسے تمام علماء کا متفقہ فتوی تبلیغ کیا گیا،ہم نے جس حد تک ان اجلاسوں کی حالت کو  مشاہدہ  اور ان کے فیصلوں کا مطالعہ کیا ہے، ان کے پاس برحق جہاد کو ناجائز ثابت کرنے کے لیے کوئی شرعی یا منطقی دلیل نہیں ہے، کافی حد تک عام گفتگو ہوتی  رہتی ہے، جنگ میں شہری نقصانات کی نشاندہی کی جاتی ہےاور مجاہدین کو مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے، کہ ان کے حملوں  میں بےگناہ شہری، بچے اور خواتین قتل ہوتے ہیں۔ ہم ان کے اس دعوے کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہمارا جہادی ہدف کبھی بھی بے گناہ افراد کا قتل نہیں ہے، ہم نے حتی الوسع بہت کوشش کی ہے، کہ جہادی حملوں میں بےگناہ افراد کو نقصان نہ پہنچے، اسی مقصد کے لیے شہری نقصانات کے سدباب کی خصوصی کمیشن کو تشکیل دی ، شکایت نمبر کو جاری  اور بے احتیاطی کی صورت میں مجاہدین کو  سزائیں دی گئیں۔ مگر یہ کہ ہر جنگ کے کچھ عوارض ہوتے ہیں،جس سے شہری نقصان ہوجاتے ہیں۔اگر  دیکھا جائے تو حتی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے غزوات میں بھی کبھی کبھی غلطی سے بےگناہ افراد قتل ہوتے ، لیکن مذہبی علماء نے کسی صورت میں غیر عمدی شہری نقصانات کی وجہ سے جائز جہاد کو باطل نہیں سمجھا ہے۔

دوسری بات یہ کہ ان اجلاسوں میں رواں جہاد کو ناجائز ثابت کرنے کے لیے یہ بات بہت کی جاتی ہے کہ جہاد ایک برحال حکومت یا سلطان کی جانب سے اعلان ہونا چاہیے ، ورنہ درست نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ آئیے معاصر تاریخ کے اسلامی مزاحمتوں کا گہرا مطالعہ کریں۔ اٹھارویں اور انیسویں صدیوں میں جب اسپین، فرانس، برطانیہ، روس، ہالینڈ، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے عالم اسلام پر جارحیت کی گئی، شمالی افریقا سے لیکر قفقاز، وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور  حتی ہندوستان تک تمام اسلامی سرزمین یورپی استعمار کی جانب سے  قبضہ اور استعمار کے زیر کنٹرول رہا، ان ممالک میں استعمار نے اپنی مستبد حکومتیں قائم کیں اور اپنی فوجی، سیاسی، نظریاتی اور معاشی جارحیت کو جاری رکھا۔اس کے بعد ان غاصبوں کے خلاف اکثر علاقوں میں مسلح جہاد کا آغاز  ہوا۔استعمار کے خلاف اسلامی تاریخ کی یہ مایہ ناز مزاحمتیں حکومتوں کی جانب سے نہیں بلکہ  سیداحمدشہید، امام شامل داغستانی، عبدالقادر الجزائری، ملامشک عالم، عمرمختار، عزالدین قسام، محمد احمد المہدی السوڈانی، ابراہیم بیگ، شیخ الہند مولینا محمودالحسن رحمہم اللہ اور ان کے مانند دیگر اسلامی درد میں درمند سپوتوں کی انفرادی جدوجہد سے تحریکیں شروع ہوئی تھیں، جو وقت گزرنے کے بعد عوامی تحریکوں میں بدل گئیں اور عالم اسلام سے اجنبی استعمار کو مار بھگایا۔

اب تک عالم اسلام کے کسی عالم نے ان سپوتوں کے جہاد پر جرح کی اور نہ ہی اس وجہ سے ان کے جہاد کو ناجائز یا غیرمشروع سمجھا ہے کہ ان کا جہاد حکومتی نہیں بلکہ عوامی تھا۔ اسی طرح تین عشرہ قبل روسی جارحیت اور کمیونزم کے خلاف افغان مجاہدین نے جہاد کا آغاز کیا، تو دنیا بھر کے علماء کرام نے جہاد کی حمایت کی،  حالانکہ جہاد کے آغاز کے دوران بھی مجاہدین کی کوئی حکومت نہ تھی۔

دوسرا یہ کہ ہمارا موجودہ جہاد دفاعی جہاد ہے،اسلیے کہ کافروں نے ہماری اسلامی سرزمین پر جارحیت کی ہے اور ان کے خلاف دفاعی جہاد شروع ہوا ہے ۔ دفاعی جہاد میں جب کفار مسلمانوں کے ملک پر  حملہ کریں، تمام فقہی کتب میں تحریر ہیں، کہ ہر مرد،، عورت، غلام ، آزاد اور ہر مسلمان علی الانفراد نفیر عام پر(قیام)   واجب ہے اور سب ایک دوسرے کے اجازت کے بغیر جہاد کریگا، ورنہ سب گنہگار  اور فرائض کے متروک ہیں، لہذا دفاعی جہاد میں حکومت اور نہ ہی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر بالفرض مان بھی  لیجائے کہ جہاد کا حکم برحال حکومت کو جاری کرنا چاہیے، پھر بھی امریکہ کے خلاف ہمارا جہاد اس لیے جائز ہے کہ اس کے جواز کے فتوی  کو عالی قدر امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی قیادت میں امارت اسلامیہ کی برحال حکومت کے دوران امریکی جارحیت سے چند روز قبل 03/رجب المرجب 1422ھ بمطابق 21/ نومبر 2001ء کو کابل میں ایک ہزار پانچ سو علماء کرام نے جاری کیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکہ نے افغانستان پر جارحیت کی، تو اس کے خلاف جہاد فرض عین ہے۔اس فتوی کے دوران ملک کی 95٪ اراضی امارت اسلامیہ کے زیر تسلط تھی اور چند ممالک نے  حکومت کو تسلیم بھی کرلی تھی۔ یہ مسئلہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ کفری جارحیت کی صورت میں صرف ملک کے دارالحکومت اور بڑے شہروں سے عقب نشینی سے کسی اسلامی حکومت کی شرعی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔ لہذا  امارت اسلامیہ جس طرح اس وقت ایک اسلامی ریاست اور اسلامی حکومت تھی، اب بھی اسلامی حکومت یا ریاست ہے، جو امریکہ اور اس کے مزدور انتظامیہ کی نسبت سے افغانستان کے زیادہ رقبے پر حاکم ہے۔

درج بالا چند باتوں کی طرح ان کی تمام باتیں ایسی ہی بےدلیل اور شرعی رو سے بے بنیاد ہیں، یہ کہ وہ موردالزام صرف مجاہدین کو ٹہراتے ہیں اور ظالم و فاجر کافر غاصبوں کے خلاف حتی ایک بات بھی کہتے اور نہ ہی ان کے اظہرمن الشمس فوجی ظالمانہ جارحیت کو ناروا سمجھتے ہیں،  تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صرف استعماری جہت  کے لیے مصروف عمل ہے۔

لہذا ہم مذہبی علماء کو بتاتے ہیں کہ برحق جہاد کو ناجائز سمجھتے ہوئے اس حساس موضوع میں اپنے دنیوی اور اخروی عاقبت سے خوفزدہ ہوجائے۔

انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ موجودہ وقت کا عظیم فرعونی طاغوت ہے،جس نے دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کے حقوق کو غصب کر رکھے ہیں،مسلمانوں کے قبلۂ اول بیت المقدس پر قبضہ کر رکھا ہے  اور ہر جنگہ مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور آپ حضرات کو یہ بھی معلوم ہے کہ افغان مجاہدین فلسطینی مظلوم عوام کے مانند دشمن کیساتھ پتھر اور لکڑی سے  نہیں لڑ رہے ہیں، بلکہ ان جدید ہتھیاروں سے جنگ کررہی ہے ، جو  امریکیوں اور ان کے  حواریوں سے غنیمت کی جاچکی ہیں، ان اسلحہ سے امریکہ کو درست اور لازم سزاد دیتی ہے اور ہم  روزانہ مجاہدین کے شاندار فتوحات کے گواہ ہیں، اس سلسلے میں  امریکی بذات خود اعتراف کررہا ہے کہ افغانستان میں 25 ہزار سے زائدہ امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں، ہزاروں نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوئے ہیں۔ تو شرعا اور قانونا ناجائز ہے کہ مسلمان اور باالخصوص علماء دین اس ظالم غاصب اور افغانستان میں محصور زخمی اژدھے کو تعاون اور نجات دلوا دیں، اس لیے کہ اس امریکی طاغوت کا ساتھ دینا عظیم گناہ اور بڑا انحراف ہے،جس سے اللہ تعالی ہمارے علماء کرام کو بچائیں۔

آخر میں ایک بار پھر مذہبی علماء کرام سے احترامانہ اپیل کی جاتی ہے کہ دشمن کے اینٹلی جنس تقریبات اور تگ ودو میں شرکت کے بجائے  اپنی عوام اور مجاہدین سے تعاون کریں، تاکہ اللہ تعالی جارحیت کے فتنے کو ختم اور مسلمان عوام کی عزت اور استقلال کو  اعادہ کریں۔ و ما ذلک علی اللہ بعزیز

امارت اسلامیہ افغانستان

۲۲/۱۰/۱۴۳۹هـ ق

۱۵/۴/۱۳۹۷ هش ــ 2018/07/06م

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*