کامیاب الخندق آپریشن کا دوسرا پہلو

آج کی بات

 

آپریشن الخندق کے تحت مجاہدین نے کئی متعدد اضلاع اور صوبہ فراہ فتح کر لیا ہے۔ بھاری مقدار میں اسلحہ، وسائل اور فوجی ساز و سامان غنیمت میں حاصل ہوا ہے۔ قابض اور کٹھ پتلی فورسز کے سیکڑوں اہل کار مارے گئے۔ اس کے علاوہ الخندق آپریشن کی کامیابی کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جہادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ دعوت و ارشاد کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے، جس کے تحت الخندق آپریشن کے پہلے دو ماہ میں کابل انتظامیہ کے ایک ہزار سے زائد اہل کار امارت اسلامیہ کے سامنے سرنڈر ہوئے ہیں۔ امارت اسلامیہ نے انہیں نے جان و مال کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔

جس طرح الخندق آپریشن عسکری میدان میں کامیابی سے جاری ہے، اسی طرح کابل انتظامیہ میں شامل اہل کاروں کو دعوت دینے میں بھی اس آپریشن نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ حتی کہ ایک روز میں 100 سے زائد اہل کار کابل انتظامیہ سے الگ ہوئے ہیں۔ ایک دن کے دوران غزنی، میدان وردگ اور غور سے درج ذیل خبریں موصول ہوئیں:

صوبہ غزنی کے ضلع مقر میں مقامی ملیشیا کے 17 اہل کاروں نے مجاہدین کے سامنے سرنڈر ہونے کا اعلان کیا۔ کابل انتظامیہ سے علیحدگی اختیار کرنے والے اہل کاروں نے امارت اسلامیہ کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کا اعلان کیا ہے۔ کچھ دن قبل بھی اسی علاقے میں 23 فوجیوں، پولیس اور لیویز اہل کاروں نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔

صوبہ میدان وردگ کے ضلع ’جل ریز‘ میں شدید لڑائی کے بعد72 اہل کار مجاہدین کے سامنے سرنڈر ہوگئے۔ انہوں نے اپنے تمام ہتھیار مجاہدین کے حوالے کر دیے۔

صوبہ غور کے ضلع شہرک کے علاقے اوشان میں کمانڈر نادر اور ملکی رہنما عبدالعزیز کی قیادت میں ایک ہزار خاندانوں نے امارت اسلامیہ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ زندگی کے آخر دم تک مجاہدین کی جاری رکھیں گے۔ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ کمانڈر نادر نے 100 عدد کلاشن کوف،7 رائفلیں،4 عدد راکٹ اور دیگر اہم ہتھیار مجاہدین کے سپرد کیے۔

کابل انتظامیہ سے علیحدگی اختیار کرنے والے تمام افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اسلام، ملک اور قوم کے خلاف جارحیت پسندوں کی حمایت نہیں کریں گے۔ وہ امارت اسلامیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ اسلام اور افغانستان کے دفاع کے لیے ترجیحی بنیادوں پر جدوجہد کریں گے۔ مجاہدین نے ان کا خیرمقدم کیا اور انہیں جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*