نعروں کی حد تک امن بے فائدہ ہے؟

آج کی بات

 

حیران کن بات یہ ہے کہ کابل انتظامیہ کے اعلی حکام، خطباء، علماء، سول سوسائٹی کے کارکن، ریلیوں کے شرکاء اور دیگر ناموں سے ایجاد کردہ گروہوں نے یہ نعرہ بلند کیا ہے کہ ‘ہم پر امن، ترقی یافتہ اور پرسکون افغانستان چاہتے ہیں۔’ ان کے مطابق جاری جہاد ‘خانہ جنگی’ ہے اور وہ فوری طور پر اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

جب کی نام نہاد امن کے علم برداروں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی کو غیرقانونی سمجھتے ہیں۔ امریکی فورسز کے چھاپوں، بم دھماکوں اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ فوری طور پر امریکی افواج کے حملوں کی روک تھام چاہتے ہیں۔ امریکا اور دیگر قابض ممالک سے فوری طور پر قابض فورسز کے انخلا کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ ہی یہ کہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں افغان عوام کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔

ہم امن کے نام پر ورغلائے گئے علماء، سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ریلیوں کے شرکاء کو کہنا چاہتے ہیں کہ تم کیوں اتنے بہرے، اندھے اور جانب دار ہو کہ تنازع کی بنیاد اور جڑ پر تبصرہ بھی نہیں کر سکتے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اگر افغانستان پر امریکا کا ناجائز قبضہ نہ ہو اور یہاں اسلامی نظام قائم ہو تو پھر مجاہدین کو جنگ جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے اور وہ کیوں کر قیتمی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہیں گے؟

امریکا نے 17 سال پہلے افغانستان پر صلیبی دعوں اور انتقام کی پالیسی کے تحت حملہ کر کے وحشیانہ جنگ کا آغاز کیا۔ تین لاکھ مظلوم اور نہتے شہریوں کو شہید کر دیا۔ دو لاکھ افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔ امریکا کے طاقت کے بے دریغ استعمال کے باوجود اللہ نے اس کو رسوا اور بے نقاب کیا۔ ہر میدان میں شکست سے دوچار کیا۔ اب نام نہاد امن کے جعلی منصوبے کے تحت امن ریلیوں، اجلاسوں، فتاوی اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاکہ رائے عامہ کو ناجائز امریکی قبضے کے بجائے کسی اور جانب مبذول کرایا جائے۔

ہمیں یقین ہے امن کے نام نہاد علم برداروں نے اب اس حقیقت کا ادراک کیا ہوگا کہ اگر امریکا افغانستان سے انخلا کا اعلان کر دے تو بلا شبہ افغانستان میں امن قائم ہوگا۔ امن مذاکرات کے لیے ماحول سازگار ہو کر عملی اقدامات شروع ہو جائیں گے۔ چوں کہ امریکا اب تک جنگ جاری رکھنے کے مؤقف پر قائم ہے۔ افغانستان کی فضائی اور زمینی حدود پر اس کا ناجائز قبضہ برقرار ہے۔ افغان عوام کا قتل عام جاری ہے جب کہ کابل انتظامیہ کو امریکی رضامندی کے بغیر ایک گورنر یا کمانڈر تبدیل کرنے تک کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ عین اسی وقت وہ امن عمل شروع کرنے کے لئے جعلی اور نمائشی دعوے بھی کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ امریکی اجازت کے بغیر امن مذاکرات شروع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ان تمام کوششوں کے پیچھے امریکی منصوبے کارفرما ہیں۔ اس لیے امن کے نام نہاد علم برداروں کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو سکتیں۔

افغان مجاہد عوام تب امن کے خوشنما نعروں پر یقین کریں گے، جب امن کے علم برداروں کی تقاریر، بینروں اور جھنڈوں میں واضح طور پر یہ الفاظ درج ہوں گے کہ ’’امریکا ہماری سرزمین پر ناجائز قبضہ ختم کرے اور افغان عوام کے مذہبی اور قومی حقوق کا احترام کرے۔‘‘

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*