حکام کیوں اب امن کو اہم سمجھتے ہیں؟

آج کی بات

 

موجودہ کابل انتظامیہ کو جب سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اقتدار سونپنے کا اعلان کیا تو چند گھنٹے بعد ہی اس نے امریکا کے ساتھ سیکورٹی معاہدہ کر دیا جس کے تحت امریکی فورسز کو افغانستان میں مستقل اڈوں کے علاوہ فوجی آپریشن کی اجازت بھی دے دی جو کسی بھی عدالتی کارروائی سے مستثنی ہوں گے ۔

اسی وجہ سے گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران قابض امریکی فورسز نے ہر قسم جرائم کا ارتکاب کیا مثلا فضائی اور ڈروں حملوں ، رات کے چھاپوں ، نہتے شہریوں پر تشدد، مدارس اور مساجد کی تخریب یہاں تک ننگرہار میں ایوان بالا کے سربراہ کے رشتہ داروں کا قتل عام قابل ذکر ہیں ،اب بھی امریکی فورسز اور ان کے زیر کنٹرول افغان اجرتی فورسز کے جرائم پر کابل انتظامیہ خاموش ہے کیوں کہ اس نے رضاکارانہ طریقے سے تمام کارروائیوں کی کھلم کھلا اجازت دی ہے ۔

لیکن اس وقت کابل انتظامیہ نے امن عمل شروع کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی جنگ بندی کے یک طرفہ عزم کا اظہار کیا بلکہ اشرف غنی نے اپنی ہر تقریر میں برملا کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور طالبان کے خلاف مضبوط موقف پر ہم قائم ہیں انہیں طاقت کے ذریعے سرنڈر ہونے پر مجبور کریں گے ۔

اس کے بعد ٹرمپ نے نئی جنگی حکمت عملی کا اعلان کیا تو کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھی نئی امریکی پالیسی کو افغان تنازع کا واحد حل قرار دیا اور متعدد بار ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور نئی پالیسی کا خیرمقدم کیا ، اس کے علاوہ کابل انتظامیہ نے امریکا سے افغانستان میں فضائی حملوں ، چھاپوں اور قابض فورسز کی تعداد بڑھانے اور جیلوں کو دوبارہ آباد اور فعال کرنے کا مطالبہ کیا ، علاوہ ازیں ٹرمپ کی نئی پالیسی کی کامیابی کے لئے سیمیناروں اور کانفرنسوں کا انعقاد بھی کیا گیا ۔

امن، ملک میں جاری بے چینی کو ختم کرنے اور گزشتہ سترہ برس کی جنگ کو کنٹرول کرنے کے لئے یک طرفہ جنگی کا اعلان کرنے اور طالبان کو غیر مشروط امن کی پیشکش کرنے کے بجائے کابل انتظامیہ نے ٹرمپ کی پالیسی پر اصرار کیا اور نئی امریکی پالیسی کو جہادی مزاحمت کچلنے کے لئے بہترین اقدام قرار دیا اور دعوی کیا کہ امریکا نئی پالیسی کے تحت طالبان کو شکست دیکر کامیابی حاصل کرے گا اس لئے امن عمل کو شروع کرنا ضروری نہیں سمجھا ۔

کٹھ پتلی انتظامیہ کے حکام کی نااہلی کا نتیجہ تھا کہ گزشتہ ساڑھے تین برس کے دوران افغانستان آگ کے شعلوں میں خاکستر ہوا ، ہر ہفتے اور ہر مہینے کے دوران امریکی فورسز ہزاروں بم گرانے اور ہزاروں نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کی خبریں شائع کرتی رہیں ۔ لیکن کٹھ پتلی حکام نے اس کے باوجود پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے پر اصرار کیا اور امریکی فورسز کے چھاپوں اور حملوں سے لطف اندوز ہوتے رہے لیکن جب مجاہدین کی لازوال قربانیوں کے نتیجے میں امریکی حملہ آوروں کو شکست کے دہانے پر پہنچایا تو انہوں نے مجبور ہوکر کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے اعلان کیا کہ وہ غیر مشروط طور پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں ، دشمن کو معلوم ہوا کہ وہ شکست کے دہانے پر کھڑا ہے اس لئے امن عمل شروع کرنے ، جنگ بندی اور امن ریلیوں کا انعقاد کیا ، اب امن کو ضروری سمجھا جبکہ امن کے لئے بہت سارے مواقع ضائع کئے گئے ، جب ان کے تمام حربے ناکام ثابت ہوئے تو انہوں نے امن عمل کو اہمیت دیکر جنگ بندی اور امن ریلیوں کا ڈرامہ شروع کیا ، اگر کابل انتظامیہ جارحیت پسدنوں کی مدد ختم نہ کرے تو امن عمل کا کچھ فائدہ بھی نہیں ہوگا اور ایک دن ضرور دشمن کو وطن عزیز سے ہزیمت اٹھاتے ہوئے راہ فرار اختیار کرنا پڑے گا ۔

ان شاالله، وما ذالک علی اللہ بعزیز ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*