امن بارے حکام کی ناکام کوششیں

آج کی بات

 

کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے گزشتہ دنوں اپنے ماتحت تمام حکام کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا، جنہوں نے امارت اسلامیہ کے ساتھ خفیہ اور اعلانیہ امن عمل اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اشرف غنی نے کہا کہ اب تک مجاہدین کی قیادت کے ساتھ ہم نے کسی قسم کے مذکرات نہیں کیے ہیں۔ اس سے قبل سرحدی امور کے وزیر گل آغا شیرزئی نے دعوی کیا تھا کہ مجاہدین کی قیادت کے ساتھ گزشتہ تین ماہ سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔اس کے علاوہ قندھار کے کمانڈر نے بھی گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ ہم 60 مجاہدین رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل بھی انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ 50 سینئر مجاہدین رہنما ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ امن کونسل کے ارکان کا تو یہ بہترین مشغلہ ہے اور گزشتہ آٹھ سال سے یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ وہ مجاہدین کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پکتیا کے گورنر نے اعلان کیا کہ انہوں نے مجاہدین کے لیے اس صوبے میں پُرامن علاقوں کا انتخاب کیا ہے۔ ( انہوں نے یہ بات تب کہی، جب اس صوبے کے گورنر ہاؤس کے علاوہ باقی پورا صوبہ مجاہدین کے کنٹرول میں ہے) اور ادھر کابل میں امن کے نام پر کچھ لوگوں نے امن ریلیوں کا انعقاد کیا، جو اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

اشرف غنی نے مجاہدین کے ساتھ بات چیت کا عمل مسترد کر دیا، جس سے ثابت ہوا کہ کٹھ پتلی حکام امریکی جارحیت کی بقا اور تحفظ کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے نام نہاد امن اور مذاکرات کے دعوے کرتے اور آزادی اور قوم کی قسمت کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ کابل انتظامیہ کے حکام جو کچھ کرتے ہیں، وہ حیرت انگیز نہیں ہے۔ کیوں کہ حملہ آوروں نے انہیں اس لیے قوم پر مسلط کیا ہے، تاکہ وہ امریکی جارحیت کی بقا اور دوام کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں۔ تاہم امن ریلیوں کے شرکاء کو سوچنا چاہیے کہ وہ کیوں کر امن کے خوب صورت عنوان کے تحت جارحیت کے دوام کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ وہ صرف مجاہدین سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جب کہ امریکی جارحیت کے خلاف وہ بالکل خاموش ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ 2001 سے اب تک بی 52 طیاروں کی وحشیانہ بمباری اور اس دھرتی پر ٹینکوں کی گولہ باری مجاہدین کی کارستانی ہے؟! دن رات نہتے شہریوں کے گھروں پر مجاہدین چھاپے مارتے ہیں؟! عوام پر تشدد اور ان کا قتل عام مجاہدین کرتے ہیں؟! چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے میں مجاہدین ہی ملوث ہیں؟! مادر بم اور دیگر خطرناک بم مجاہدین ہی عوام پر برسا رہے ہیں؟! افغانستان پر مجاہدین نے یلغار کر کے یہ ملک امریکا کے قبضے سے چھینا ہے؟! اس پورے ماجرے میں امریکا اور اس کے اتحادی قصور وار نہیں ہیں؟!

حقیقت روزِروشن کی حقیقت واضح ہے کہ امریکی حملہ آوروں نے تقریبا دو دہائیوں سے کسی قسم کے مظالم اور تشدد سے دریغ نہیں کیا۔ تاہم افغانستان کے جغرافیے کو ہضم کیا اور نہ ہی افغان مؤمن مجاہد قوم کو شکست دی جا سکی۔ ٹرمپ کی پالیسی بھی ناکام ثابت ہوئی اور مایوس ہو کر رواں سال کے آغاز سے امن کے نام پر ڈرامہ شروع کر دیا۔ اس لیے کبھی امن ریلیوں کے نام پر، کبھی علماء کانفرنسوں کے تحت اور کبھی تاجکستان اور دیگر ممالک میں جہاد کے خلاف منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام منصوبوں کے پیچھے براہ راست امریکی سازش کارفرما ہے۔ امن ریلیوں کے شرکاء اگر واقعی مخلص اور امن کے خواہاں ہیں تو مجاہدین ان کے تمام مطالبات تسلیم کریں گے۔ ہتھیار پھینک کر جہاد کا فریضہ ترک کر دیں گے اور عوام کے دفاع سے بھی دست بردار ہوجائیں گے، لیکن پہلے وہ صرف یہ آواز بلند کریں کہ جارحیت پسند اور غیرملکی فوجیں افغانستان سے چلی جائیں۔ فضائی حملے بند کیے جائیں۔ افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔ ہماری فضائی اور زمینی حدود ہماری ملکیت اور ہمارا انسانی حق ہے۔ اسے تسلیم کیا جائے۔ حملہ آوروں کو بتائیں کہ آپ نے گزشتہ 18 برس کے دوران ہمیں موت، تباہی، بمباری اور بے عزتی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ تمام جرائم اور مسائل کی بنیادی وجہ اور فساد کی جڑ امریکی یلغار ہے، جس کا خاتمہ ضروری ہے۔

امن ریلیوں کے شرکاء کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ قوم کو جعلی کوششوں سے نہیں ورغلایا جا سکتا۔ عوام باشعور اور مسائل کی بنیادی وجہ جانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ افغانستان میں بنیادی مسئلہ کہاں پیدا ہوا اور امن کی راہ میں کون رکاوٹ ہے؟ اگر لوگ اس حقیقت کا ادراک کریں تو امن لانے کا ایک آسان راستہ انہیں میسر آ سکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*