امن کاروان امریکی انخلا کرائے

آج کی بات

 

خود کو امن کے علمبردار متعارف کروانے والے کچھ عرصے سے امن ریلیوں کے نام پر شور برپا کیے ہوئے ہیں۔ وہ کابل انتظامیہ کی پالیسی کے مطابق امن کے نعرے بلند کرتے ہیں۔ وہ امن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے غیرملکی قبضہ مافیا کے بجائے صرف مجاہدین سے امن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افغانستان پر امریکی یلغار سے قبل یہاں ایک مثالی امن قائم تھا۔ افغانستان کے پچانوے فیصد رقبے پر امن کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ اگر امریکا مداخلت نہ کرتا تو پورے افغانستان میں ایک مثالی امن قائم ہو جاتا۔ حملہ آوروں نے جرائم پیشہ عناصر اور جمہوریت پسندوں کی مدد سے افغانستان پر حملہ کر کے نہتے عوام پر جنگ مسلط کر دی۔

امن ریلیوں کے شرکاء نے جان بوجھ کر موجودہ جنگ کی بنیادی وجہ ’’امریکی جارحیت‘‘ کو نظرانداز کیا ہے۔ وہ افغان عوام کی بڑی خواہش ’’امن‘‘ پر سودے بازی کرنے کی کوشش میں ہیں۔ وہ معمولی مالی فائدے کے بدلے میں امن دشمن قوتوں کو بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے جرائم پر چشم پوشی اختیار کرتے ہیں۔ ناجائز قبضے کو دوام بخشنے کے لیے ماحول سازگار بناتے ہیں۔

امن ریلیاں کابل انتظامیہ اور امریکی سفارت خانے کی ہدایات پر منعقد کی جا رہی ہیں۔ امن قافلے کی قیادت کرنے والی پارٹی کا منشور اور پروگرام امریکی سفارت خانے میں بنایا گیا ہے۔ امن کارواں سے متعلق ہمارا مؤقف پروپیگنڈا نہیں، بلکہ حقیقت ہے۔ اس حقیقت سے متعلق امریکی فوج کے سابق کمانڈر جنرل نکلسن نے بڑے فخر کے ساتھ اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے قندھار میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ‘ہم امارت اسلامیہ پر سیاسی اور فوجی دباؤ کے ساتھ سماجی دباؤ بھی بڑھائیں گے۔ اس کے بعد قندھار اور ہلمند کے امن کارواں کو سماجی دباؤ کی مثال کے طور پر ذکر کیا۔

امن کارواں اگر واقعی امریکی منصوبہ نہیں ہے تو وہ کابل انتظامیہ سے امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کرے۔ افحانستان میں قابض افواج کے سب سے بڑے فوجی اڈے بگرام جا کر ان سے مطالبہ کریں کہ امریکا کے انخلا تک ان کی ہڑتال اور احتجاج جاری رہے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*