امارت اسلامیہ ایک گروہ نہیں، بلکہ ایک نظام ہے

امارت اسلامیہ کے مخالفین اور  ذرائع ابلاغ دو عشروں سے پروپیگنڈے کررہے ہیں کہ طالبان ایک باغی گروہ ہے،  تعلیم سے دشمنی رکھتی ہے۔ انسانی حقوق کا احترام اور بہترین حکومت کی طاقت نہیں رکھتی۔ تعمیرنو کے منصوبے، انصاف اور امن وامان برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ مختصر یہ کہ طالبان کے پاس ایسی قوت نہیں ہے کہ ایک ملک کا انتظام اور سیاسی رہبری کریں۔

مگر امارت اسلامیہ نے جس طرح حکمرانی کے گذشتہ دورے میں تمام مسائل، مسلط شدہ جنگ ، عالمی پابندیوں  اور مختلف النوع رکاوٹوں کیساتھ ساتھ ایک پرامن اور عادلانہ نظام کو قائم کیا تھا، اب بھی طالبان  ملک کے 70٪ فیصد اراضی پر قابض ہے، جنہوں نے  بہترین حکمرانی کے اصولوں پر برابر اسلامی عادلانہ نظام قائم کر رکھا ہے۔

یہ کہ امارت اسلامیہ کے زیرتسلط علاقوں میں پرامن عادلانہ حکومت قائم اور نافذ ہے، یہ صرف ہمارا دعوہ نہیں ہے، بلکہ حالیہ دنوں میں بعض مغربی ذرائع ابلاغ اور تحقیقاتی ادارے بھی تحقیق کے دوران اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس بارے میں حقائق کو تسلیم کریں اور  انہیں  انعکاس دیں۔

معروف امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ نے 21/ جون 2018ء کو ایک رپورٹ شائع کی، جس میں کہا گیا ہے کہ ” طالبان نے حکمرانی کے ایک مناسب نظام کو ایجاد کیا ہے  ۔  صحت، تعلیم، عدالت اور مالی امور میں کمیشنوں کو قائم کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے وسیع علاقوں پر طالبان حکمرانی کررہی ہے، حکمرانی کے امور میں بہت محتاط ہیں اور عوام کے دلوں کو اپنانا چاہتا ہے۔ طالبان کوشش کررہی ہے کہ طاقت اور جبر کے بجائے عوام کا خدمت کریں اور ایسا معلوم ہورہا ہے کہ آئندہ حکومت کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کررہا ہے "۔

اسی طرح مغربی تحقیقاتی ادارے   Overseas Development Institute جو دنیا کے مختلف علاقوں میں انکشافی امور کے متعلق تحقیقات کررہی ہے، اس ادارے نے امارت اسلامیہ کے انتظامی امور خصوصا تعلیم کے متعلق تحقیقات کی ہے  اور دو ہفتہ قبل ایک مفصل رپورٹ شائع کی، اس رپورٹ کو 160 افراد کیساتھ انٹرویوز  کے بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اس ادارے نے امارت اسلامیہ کے زیرکنٹرول علاقوں میں تعلیم، صحت اور دیگر عمرانی امور میں  طالبان  کو کامیاب تصور کیے ہیں۔

یہ اور اس سے ملے جلے حقائق سے ثابت ہوتا ہےکہ  دشمنوں کے پروپیگنڈوں کے برعکس امارت اسلامیہ ایک عادلانہ اور اہل وطن کی آرامی، سکون، تعمیرنو اور کامیابی کو وفادار اسلامی تحریک ہے، جو ایک منظم حکومتی نظام کی حیثیت سے سرگرم عمل ہے۔ یہ تحریک عوام کی بطن سے ابھری ہے،ملکی سطح پر کسی اور سیاسی گروہ کی نسبت سے عوام میں گہرے جڑیں رکھتی ہیں اور  عوام کے درد، مسئلہ اور آرزؤں کو ہر کسی سے بہتر سمجھتے ہیں۔

دنیا کی عوام اور حکومتوں کو چاہیے کہ امارت اسلامیہ کو کسی معمولی، غیرحمایت یافتہ اور باغی گروہ کی نگاہ سے  نہ دیکھے۔ امارت اسلامیہ کوئی زیرزمین( انڈر لائن) جنگی گروہ نہیں ہے، بلکہ ایک مکمل حکومتی نظام ہے، جو افغان عوام کے بےپناہ حمایت اور علاقائی  سطح پر سیاسی وجاہت اور اعتبار کا حامل ہے۔ امریکی حکام اور استعماری شرکاء کو اس مغالطے اور خود کو دھوکہ دینے سے نکلنے چاہیے، جو ہماری جہادی عوامی تحریک کو دہشت گردی کا نام دے رہا ہے  اور اسی بہانے سے جنگ کو طول دینے کے لیے راہ ہموار کررہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*