اگر کابل انتظامیہ حقیقی امن میں دلچسپی رکھتی ہے

آج کی بات

 

کابل انتظامیہ اور اس کے حامی اب بہت شدت کے ساتھ امن کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم عوام کو اب بھی یقین نہیں ہے کہ کابل انتظامیہ مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے کیوں کہ اس نے حلف برداری سے قبل ہی جارحیت پسندوں کے ساتھ سیکورٹی معاہدہ کر کے جنگ کو جاری رکھنے اور امن کا راستہ روکنے کی کوشش کی ۔

 

کابل انتظامیہ کے سربراہ کچھ عرصہ قبل تک بڑے فخر کے ساتھ جنگ کو جاری رکھنے پر بہت زور دیتے تھے اور کہتے تھے کہ امن کو طاقت کے زور پر قائم کیا جائے گا ۔

 

سلامتی امن کے لئے ہونا ضروری ہے، امن کا نام غلط استعمال نہیں کرنا چاہئے، امن کو جنگ میں بالادستی قائم کرنے کے لئے استعمال نہ کیا جائے ، امن کی اہمیت کے ساتھ سطحی اور براہ نام سلوک کرنا نہ صرف امن کا خواب چکنا چور کرنے کا موجب بنے گا بلکہ جنگ میں شدت لانے کا سبب بھی بنے گا ۔

 

امن افغان عوام کی سب سے بڑی خواہش ہے، امن شہداء کی امنگوں اور امیدوں کی بحالی، ملک کی آزادی ،مظلوم قوم کی خوشحالی ، وطن عزیز کے استحکام اور سرحدوں کی حفاظت ، تمام برادر اقوام کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے ، علاقائی سالمیت کے لئے اور تعصب، غصب، قوم پرستی، امتیازی سلوک، بھتہ خوری، اخلاقی اور مالی کرپشن کے خاتمے ،اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی کے خلاف اور سب سے بڑھ کر اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ایک بہترین وژن، اہم اور ضروری اقدام ہے ۔

 

حملہ آور اور کابل انتظامیہ کے سربراہ نہ صرف امن نہیں چاہتے بلکہ امن کو یرغمال بنا لیا گیا ، وہ نہیں چاہتے کہ امن قائم ہو، امن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی گئی ہیں ،وہ جنگ میں امن تلاش کر رہے ہیں ، وہ براہ نام امن کے خواہاں ہیں ، ان کا امن سرنڈر ہونے کے مترادف ہے ،تاہم امارت اسلامیہ حقیقی امن پر یقین رکھتی ہے، اس کے امن کا مطالبہ نعروں کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ عملی طور پر امن چاہتی ہے لیکن ایسا امن کہ جس کے ذریعے ملک کی آزادی حاصل کر سکے ، اقدار پائمال نہ ہو، لاکھوں شہداء کا خون رائیگاں نہ ہو اور ایسا امن کہ جس کے تحت افغان عوام کی امنگوں کے مطابق نظام قائم کیا جائے ۔

 

کابل انتظامیہ اگر واقعی امن کے لئے تڑپتی ہے اور امن پر یقین رکھتی ہے تو جارحیت پسندوں کے ساتھ امن معاہدہ منسوخ کرے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*